شہید لانس نائک محمد فیروز خاں کی قربانی رائیگاں

حکومت ، سیاستداں اور عوام سب نے جانباز فرزند دکن کو بھلا دیا،اہم سڑک ، پارک ، اسکول اور سرکاری عمارت کو شہید سپاہی سے موسوم کرنے کا مطالبہ
محمد ریاض احمد
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اکٹوبر : ہمارے وطن عزیز ہندوستان کی آزادی سے لے کر آج کی تاریخ تک جہاں دیگر ابنائے وطن نے قربانیاں دی ہیں وہیں مسلمانوں نے اس سرزمین کو اپنے خون سے زر خیز بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ جدوجہد آزادی میں اپنوں کی غداری سے جہاں سراج الدولہ نے سر جھکانے پر سرکٹانے کو ترجیح دی وہیں ہندوستان کی آزادی کے لیے بہادر شاہ ظفر نے قربانی کا جو نذرانہ پیش کیا اس کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں مل سکتی ۔ ایک ضعیف بادشاہ کو جس نے حریت پسندوں کے دلوں میں جذبہ آزادی کی شمع روشن کردی تھی انگریزوں نے ناشتہ میں وہ کھانا پیش کیا جو آج تک کم از کم ہندوستان میں کسی بادشاہ یا حکمراں کو پیش نہیں کیا گیا ۔ انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کے سامنے بڑے ہی سلیقہ کے ساتھ ایک مشقاب پیش کی جب انہوں نے اس مشقاب پر پڑا ہوا پرکشش مخملی کپڑا اٹھایا تو دیکھا کہ اس مشقاب میں ترو تازہ پھل یا گرم گرم کھانا نہیں بلکہ ان کے شہزادوں کے کٹے ہوئے سر رکھے ہوئے ہیں ۔ لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس قدر بڑی قربانی پیش کرنے کے باوجود ہندوستان کی کسی بڑی عوامی اسکیم کو بہادر شاہ ظفر سے موسوم نہیں کیا گیا ۔ اسی طرح انگریز سامراج کے خلاف سرگرم انقلابیوں کے ساتھ مل کر انگریزوں پر ہیبت طاری کرنے والے شہید اشفاق اللہ خاں کو بھی ہندوستانی قوم نے ایسے فراموش کردیا جیسے وہ جدوجہد آزادی کا حصہ ہی نہیں رہے ہوں ۔ بہادر شاہ ظفر ہوں یا سراج الدولہ یا پھر حیدرآباد کے مولوی علاء الدین جنہیں کالا پانی کی سزا پانے والے پہلے ہندوستانی مجاہد آزادی ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ مرکزی و ریاستی حکومتوں اور عہدیداروں کے ساتھ ساتھ خود ہم نے فراموش کردیا ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہزاروں مسلم مجاہدین آزادی کو صرف اس لیے بھلا دیاگیا کیوں کہ وہ مسلمان تھے ؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب حکومتیں ، سیاستداں اور سرکاری عہدیدار ہی بہتر انداز میں دے سکتے ہیں ۔ اب چونکہ بات نکل پڑی ہے ملک پر اپنی جانیں نثار کرنے والوں کی تو حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے لانس نائک محمد فیروز خاں کو بھی ان کی شہادت کے اندرون ایک سال ہی ہم نے بھلا دیا ۔ 14 اکٹوبر 2013 کو جب کہ شہر میں لوگ عیدالاضحی کی تیاریوں میں مصروف تھے حیدرآباد کا یہ بہادر فرزند اپنے مادر وطن پر اپنی جان قربان کررہا تھا ۔ پاکستانی فوج کے ساتھ مقابلہ میں محمد فیروز خاں پنجابی تلہ بالاکوٹ سیکٹر مندھا تحصیل پونچھ جموں و کشمیر کے خطہ قبضہ پر شہید ہوگئے ۔ 16 اکٹوبر کو شہید لانس نائک محمد فیروز خاں کی مکمل فوجی اعزازات کے ساتھ تدفین عمل میں آئی ۔ فیروز خاں نے ایک طرح سے اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ہندوستانیوں بالخصوص حیدرآبادی مسلمانوں کے سر فخر سے بلند کردئیے ۔ تین بچوں 4 سالہ افشاں فاطمہ ، 2 سالہ بیٹے ارشد خاں اور 8 ماہ کی عائشہ فاطمہ ( اپنے والد کی شہادت کے وقت بچوں کی یہی عمریں تھیں ) کے باپ محمد فیروز خاں نے اپنی شہادت کے ذریعہ ملک کو یہ پیام دیا کہ ہندوستان پر جان قربان کرنے کے لیے مسلمان صف اول میں شامل رہتے ہیں ۔ محمد فیروز خاں کی میت کو حیدرآباد لائے جانے کے بعد سیاستدانوں اور شہر کی ممتاز شخصیتوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے نمائندوں نے اس شہید سپاہی کی شان میں قصیدے شروع کردئیے تھے ۔ انہیں فخر ہند فخر حیدرآباد کہا جانے لگا ۔ شہید محمد فیروز خاں کی والدہ محترمہ اختر بیگم اور بیوہ نسرین بیگم کو پرسہ دینے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششیں کی گئیں ۔ شہید لانس نائک کے بچوں کو گود میں اٹھانے میں بھی لوگ فخر محسوس کررہے تھے لیکن اس فرزند دکن کی شہادت کے ایک سال بعد بھی ان کی شہادت کو اپنی شہرت کا ذریعہ بنانے والے کسی ایک بس اسٹیشن ، پارک ، روڈ ، اسکول حد تو یہ ہے کہ ایک چھوٹی سی گلی کو شہید لانس نائک محمد فیروز خاں سے موسوم نہیں کرواسکے ۔ مہر آرگنائزیشن کے سربراہ محمد عفان قادری نے اس سلسلہ میں پہل کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ شہید لانس نائک محمد فیروز خاں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ شہر کے کسی بڑے پارک ، سڑک ، میٹرو ریلوے اسٹیشن یا پھر فلک نما میں تعمیر کردہ بس ڈپو کو محمد فیروز خاں سے موسوم کیا جائے ۔ اس ضمن میں انہوں نے ٹی آر ایس حکومت کے مسلم چہرہ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی صاحب سے مداخلت کرنے کی اپیل کی ۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستان کے اس جانباز شہید کو ریاستی حکومت ، حکام اور شہری کس طرح خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔۔