شہیدان تلنگانہ کے افراد خاندان کو ٹکٹ دینے کا مطالبہ

ہنمنت راؤ کے اجلاس میں طلباء کا زبردستی داخلہ اور نعرہ بازی
حیدرآباد۔/19مارچ، ( پی ٹی آئی) علحدہ ریاست تلنگانہ کے کاز کیلئے مبینہ طور پر اپنی جان قربان کرنے والوں کے افراد خاندان کے ساتھ کانگریس کے ایک رکن پارلیمنٹ وی ہنمنت راؤ کی طرف سے منعقدہ ایک ’ خوشگوار اجلاس ‘ آج یہاں افراتفری کا شکار ہوگیا جب عثمانیہ یونیورسٹی طلباء کی تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی نمائندگی کرنے کے دعویداروں نے وہاں پہنچ کر تلنگانہ کیلئے جان قربان کرنے والے شہیدوں کے افراد خاندان کو آئندہ عام انتخابات میں ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا۔ افراتفری میں اس وقت شدت پیدا ہوگئی

جب اجلاس میں زبردستی گھسنے والے نوجوانوں کے ایک گروپ نے شہیدان تلنگانہ کے افراد خاندان کو انتخابی ٹکٹ دینے کے مطالبہ کی تائید میں نعرہ بازی شروع کردی۔ اس دوران ہنمنت راؤ سے ان کی گرما گرم بحث ہوگئی تاہم وہاں موجود دیگر ارکان پارلیمنٹ اور کانگریس قائدین خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے۔ مرکزی وزیر دیہی ترقیات جئے رام رمیش اس اجلاس میں مقررہ وقت سے دو گھنٹے تاخیر سے پہنچے اسوقت تک افراتفری ختم ہوچکی تھی۔ اجلاس کے منتظمین نے احتجاجی نوجوانوں سے نمائندگی وصول کی اور ان کے مطالبات پر غور کرنے کا وعدہ کیا جس کے بعد گڑبڑ ختم ہوگئی۔ کانگریسی قائدین نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تلنگانہ راشٹرا سمیتی ( ٹی آر ایس ) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور قیام تلنگانہ کیلئے کانگریس کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ صرف اور صرف کانگریس کی مساعی کے سبب علحدہ تلنگانہ کا خواب حقیقت میں تبدیل ہوا ہے۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر پنالہ لکشمیا، ارکان پارلیمنٹ پونم پربھاکر، مدھو یاشکی، انجن کمار، سابق وزیر کے جانا ریڈی اور دوسروں نے اس اجلاس میں شرکت کی۔