شہنشاہ اکبر کا قلعہ ’’ ہندوؤں پر جبر و ظلم ‘‘ کی علامت

الہ آباد ۔ 7 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : وشوا ہندوپریشد نے آج ایک نیا تنازعہ کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ دریائے جمنا کے کنارے مغل شہنشاہ اکبر کا تعمیر کردہ قلعہ ’’ ہندوؤں پر جبر و ظلم کی علامت ‘‘ ہے ۔ پارٹی نے اس مخدوش قلعہ کو سنگم میں ڈبکی لگانے کی غرض سے آنے والے غریب یاتریوں کے لیے ’’ نائٹ شلٹر ‘‘ میں تبدیل کرنے پر زور دیا ۔ وی ایچ پی لیڈر اشوک سنگھل نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے دور اقتدار میں بے شمار منادر ڈھا دی گئیں اور انہیں مساجد میں بدل دیا گیا ۔

یہ مساجد ہندوؤں کو مغلوب کرنے کی علامت کے طور پر بنائی گئیں ۔ وی ایچ پی نے ایسی صرف تین علامتوں واقع ایودھیا ، کاشی اور متھرا کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قریب میں واقع قلعہ بھی ایسی ہی ایک علامت ہے ۔ اشوک سنگھل آج سنگھ پریوار تنظیم کے قیام کی گولڈن جوبلی تقریب ’’ ویراٹ ہندو سمیلن ‘‘ سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسی جگہ جہاں گنگا ، جمنا اور سرسوتی ندیوں کا سنگم ہوتا ہے اور ملک بھر سے ہر سال ہندو مقدس ڈبکی لگانے یہاں جمع ہوتے ہیں ۔ ایسے مقام کے قریب قلعہ کا آخر وجود کیوں ہے ۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ قلعہ مغل شہنشاہ کی ہندوؤں کے خلاف کامیابی کا جشن منانے تعمیر کیاگیا ۔ ان کا اشارہ پانی پت کی دوسری جنگ کی طرف تھا جس میں اکبر نے ہندو بادشاہ ہیمو کو شکست دی اور شمالی ہند میں مغلیہ سلطنت کو وسعت دی ۔ اشوک سنگھل نے کہا کہ ’ چھوت چھات ‘ بھی مسلم حکمرانوں کی دین ہے ۔ انہوں نے دلتوں کے ساتھ بھید بھاؤ ختم اور ان کے احترام کی ضرورت پر زور دیا ۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ہندوستان میں داخلہ تک ہندوؤں میں کوئی چھوت چھات نہیں تھی ۔ ہندو سماج پیشہ کی بنیاد پرچار ’ ورناز ‘ میں منقسم تھا ۔ ان تمام بشمول مزدور طبقہ سے مساوی سلوک روا رکھا جاتا ۔ مسلمانوں نے کئی صدیوں قبل ہندوستان پر قبضہ کے بعد ہندوؤں کے ایک طبقہ کو معمولی کاموں جیسے جاروب کش خاکروب کے لیے مجبور کیا کیوں کہ انہوں نے ناقابل بیان مظالم کے باوجود اسلام قبول کرنے سے انکار کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ اس غلطی کو درست کیا جائے ۔ انہیں اچھوت نہیں بلکہ ’دھرم کے سپاہی ‘ سمجھا جاناچاہئے کیوں کہ ہر طرح کی توہین برداشت کرتے ہوئے انہوں نے معمولی کام کیے لیکن اپنا دھرم نہیں چھوڑا ۔ گزشتہ سال لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی کامیابی کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے سنگھل نے کہا کہ ’ 2014 میں پہلی مرتبہ پرتھوی راج چوہان کے بعد حقیقی ہندو اقتدار پر فائز ہوا ہے ‘ ۔ انہوں نے کہا کہ کئی کام جیسے گاؤ ذبیحہ پر امتناع کو ابھی پورا کرنا ہے ۔ انہوں نے ہندو لڑکیوں کے تحفظ اور ہندوؤں کے مذہبی تبدیلی اور اس کے نتیجہ میں ہونے والے آبادیاتی عدم توازن کو روکنے کے لیے موثر اقدامات پر زور دیا ۔