ملت اِسلامیہ کیلئے لمحہ فکر ، دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی کا جلسہ ، سرکردہ شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد۔ 11 مئی (راست) دکن وقف پراپرٹیز پروٹیکشن سوسائٹی کے زیراہتمام مدینہ ایجوکیشن سنٹر نامپلی میں ایک جلسہ عام زیرصدارت جناب سید شاہ احمد معین الدین قادری المعروف حیدر پاشاہ جانشین حضرت سید فریدپاشاہ قادریؒ منعقد ہوا۔ اس موقع پر جناب عثمان محمد الہاجری نے وقف جائیدادوں کی بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کاروان کی بڑی مسجد، مسجد کلاں کلثوم پورہ کے تحت تین مواضعات بشمول موضع کلثوم پورہ، چٹیال، کنڈلہ نے تقریباً 8 ہزار ایکڑ سے زائد وقف کی جائیدادیں تھیں جس کو مبینہ طور پر سیاسی سرپرستی میں تباہ و برباد کردیا گیا۔ اسی طرح مسجد کروڑگری اور ٹولی مسجد کے تحت تقریباً 27.30 ایکڑ کی اراضی بھی لینڈ گرابرس نے سیاسی سرپرستی کے ذریعہ پلاٹنگ کرتے ہوئے فروخت کردیا جہاں ایک حصہ میں مسلم قبرستان ہے جس پر لینڈ گرابرس نے سازباز کرکے ذاتی مفادات کی خاطر شمشان گھاٹ میں تبدیل کردیا۔ مکہ مسجد کے تحت شیخ پیٹ میں چوکھنڈی قبرستان کی اراضی جوکہ مکہ مسجد کے جاروب کشوں کیلئے وقف کی گئی تھی، اس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
چوکھنڈی قبرستان کو رئیل اسٹیٹ مافیا نے سازباز کرتے ہوئے قبور کو مسمار کرکے سڑکیں تعمیر کردیں جبکہ درگاہ حضرت عباداللہ شاہؒ واقع چنچل گوڑہ باغ جہاں آراء کی باؤنڈری وال کو بھی سیاسی سرپرستی میں منہدم کردیا گیا جہاں 10 لاکھ 20 ہزار روپئے خرچ سے 4 ملگیات اور ایک یوگا پلیٹ فارم تعمیر کیا جارہا ہے۔ اس طرح دیگر اوقافی جائیدادوں کی بھی تباہی و بربادی پر مشتمل تفصیلات سے واقف کرایا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بعض مفاد پرست نام نہاد افراد ان جائیدادوں کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے باوجود کسی نے بھی اس پر آواز نہیں اٹھائی۔ آج جبکہ ایک شخص کیخلاف تحقیقات جاری ہیں، ان کو بچانے کے لئے تحقیقات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے جو ملت اسلامیہ کیلئے لمحہ فکر ہے۔ اس موقع پر جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن راجیہ سبھا نے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا کہ ایک ایسی وقف جائیداد جس کو فی مربع گز 10 ہزار روپئے میں فروخت کیا گیا، جس سے کروڑہا روپیوں کی مالی منفعت حاصل کی گئی ہے۔ اس جلسہ میں شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
دوران جلسہ مدینہ ایجوکیشنل سوسائٹی کے انتظامیہ نے مبینہ طور پر جلسہ کو روکنے کی کوشش کی۔ برقی کنکشن کو منقطع کیا گیا اور کرسیوں کی سہولت فراہم نہیں کی گئی جس پر سامعین نے فرش پر بیٹھ کر جلسہ کی سماعت کی۔ جلسہ میں شرکت اور مخاطب کرنے والوں میں قابل ذکر مولانا سید حامد حسین شطاری، مولانا حسین شہید نقشبندی، جناب امان اللہ خاں صدر عوامی مجلس عمل، جناب مجاہد ہاشمی، منیر الدین مجاہد، میجر قادری، مولانا عبدالقدوس غوری ایڈوکیٹ، پروفیسر انور خاں، علاء الدین انصاری ایڈوکیٹ، نورالحق قادری ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں۔ جلسہ کی کارروائی جناب سید کریم الدین شکیل ایڈوکیٹ نے چلائی۔