!شہر کے تین کانگریسی امیدوارو ں کو مجلس کی بالواسطہ تائید

ڈی ناگیندر ،میکش گوڑ اور ششی دھر ریڈی کے خلاف انتخابی مقابلے سے مجلس اتحادالمسلمین کا گریز؟
حیدرآباد/15 اپریل (سیاست نیوز) مجلس اور کانگریس کے مابین انتخابات سے قبل دوریاں پیدا ہونے کا تاثر دیا جا رہا تھا ۔ مجلس نے کانگریس سے دوری اختیار کرنے کا اعلان بھی کردیا تھا اور ایک دوسرے پر تنقیدیں کی جا رہی تھیں تاہم انتخابات کے موسم میں ایسا لگتا ہے کہ کانگریس اور مجلس میں بالواسطہ ایک دوسرے کی تائید پر اتفاق ہوچکا ہے ۔ جہاں مجلس اور کانگریس ایک دوسرے پر تنقید کر رہے تھے اب شہر کے تین اسمبلی حلقوں میں مجلس نے کانگریس کے تین امیدواروں کے خلاف مقابلہ ہی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ابتداء میں مجلس نے کانگریس کو شکست دینے مہم چلانے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن تین امیدواروں سے مقابلہ ہی نہیں کیا جارہا ہے ۔ مجلس نے ریاست کے سابق وزیر صحت ناگیندر، میکش گوڑ اور کانگریس ہائی کمان کے قریبی سمجھے جانے والی ایم ششی دھرریڈی کے خلاف اپنے امیدواروں کو میدان میں نہیں اتار ا۔ سابق وزیرصحت دانم ناگیندر سکندرآباد پارلیمانی حلقے کے تحت خیریت آباد اسمبلی حلقے سے مقابلہ کررہے ہیں۔ ششی دھر ریڈی صنعت نگر حلقے سے میدان میں اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ جبکہ مکیش گوڑحیدرآباد لوک سبھا کے تحت گوشہ محل حلقے سے مقابلہ کررہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ گوشہ محل ،خیریت آباد اورصنعت نگر اسمبلی حلقوں سے مجلس کامیابی حاصل کرسکتی تھی۔ ان حلقوں سے مجلس کے مقابلہ سے کانگریسی امیدواروں کی شکست یقینی ہوسکتی تھی۔ ان تینوں کانگریس لیڈروں کی کامیابی کو یقینی بنانے مجلس نے اپنے امیدواروں کوانتخابی میدان میں نہیں اتاراہے۔ تاہم مجلس کی جانب سے شہر کے تین اسمبلی حلقوں پرکانگریس امیدواروں کی بالواسطہ تائید سے عوام اورسیاسی حلقوں میں مجلس کے رول پرسوال اٹھ رہے ہیں۔

بتایاجاتا ہیکہ حیدرآباد حلقہ سے کامیابی کیلئے مجلس کے امیدوارکو گوشہ محل حلقے سے مکیش گوڑ کی تائید حاصل رہتی ہے۔ سیاسی حلقوں میں گشت کررہی اطلاعات کے مطابق تلنگانہ اور آندھراپردیش اقلیتی اکثریتی علاقوں میں مجلس کے میدان میں اترنے سے کانگریسی امیدوار تشویش کا شکارہوگئے ہیں۔یہی وجہ کہ کانگریس کی قیادت نے مجلس کو ساتھ ملالیا ۔ غلام نبی آزاد، دگ وجئے سنگھ اور جئے رام رمیش کے علاوہ دیگرکانگریس لیڈرس نے مجلس کے صدر اسد اویسی سے ربط کیا۔ انہوں نے مجلس سے اقلیتی اکثریتی علاقوں میں کانگریسی امیدواروں کی تائید کی اپیل کی ۔ اسد اویسی نے یہ وضاحت کی کہ چناؤ میں مجلس نے اپنے انتخابی نشان کو ’’پتنگ‘‘ کو برقرار رکھنے زیادہ حلقوں سے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہیں ۔ کانگریسی قائدین نے اسد اویسی سے کہا کہ کانگریس امیدواروں کو کامیاب بنانے مجلس کے اہم لیڈر بعض علاقوں میں تشہیر ی مہم سے دور رہیں۔اسداویسی نے کانگریس لیڈروں کی تجویز سے اصولا اتفاق کرلیا ہے ۔ یاد رہے کہ سال90 کے دہے میں مجلس حیدرآباد کے پرانے شہر تک محددو رہی۔تاہم 2009 میں ایم آئی ایم نے 8 حلقوں سے مقابلے کے بعد7سیٹوں پرکامیابی حاصل کی تھی۔ 2009کے انتخابات کے بعد مرکز و ریاست میں کانگریس حکومت کی تائید کی۔ تاہم 2012-13 کے دوران مجلس نے کانگریس سے دوری اختیارکرلی۔مجلس کے لیڈر اب انتخابات میں کامیابی کیلئے کانگریس، بی جے پی، اورٹی ڈی پی کو تنقیدکا نشانہ بنارہے ان کا کہناہے کہ ان تین پارٹیوں کو اقتدار سے دوررکھنے ممکنہ کوششیں کی جائینگی۔ پارٹی نے آندھراپردیش اور تلنگانہ میں 31 اسمبلی حلقوں سے اپنے امیدوار نامزد کئے ہیں۔