شہر کے بیشتر علاقوں میں آوارہ کتوں کی کثرت

حیدرآباد۔ 19 نومبر (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف محلہ جات میں کتوں کی کثرت سے شہریوں کی زندگی اجیرن بنتی جارہی ہے۔ رات کے اوقات میں کتوں کا بھونکنا اور راہرؤں کا پیچھا کرنا معمول کی بات تھی لیکن شہر کے کئی علاقوں میں اب دن میں بھی کتوں کے غول راہرؤں پر حملہ کرنے لگے ہیں۔ شہر کے بیشتر علاقوں بالخصوص بنجارہ ہلز، جوبلی ہلز، عابڈس، بشیر باغ، شاہ علی بنڈہ ، پرانی حویلی، دبیرپورہ ، چنچل گوڑہ ، یاقوت پورہ کے علاوہ کئی دیگر علاقوں سے روزانہ اس بات کی شکایات موصول ہورہی ہیں لیکن اس کے باوجود مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کتوں کو پکڑنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں، جبکہ جی ایچ ایم سی میں کتوں کو پکڑنے کیلئے ایک علیحدہ شعبہ موجود ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس شعبہ میں موجود عہدیدار مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ملازمین کی کمی کی شکایت کررہے ہیں جبکہ اہم شخصیتوں کے علاقوں میں آئے دن کتوں کو پکڑنے کے لئے گاڑیاں سرگرم نظر آتی ہیں۔ دو یوم قبل بہادر پورہ کشن باغ سڑک پر اچانک کتوں کے غول کے حملے کے نتیجہ میں خطرناک حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ بہادر پورہ چوراہے سے گذرنے والی ایک کار پر کتوں کے غول نے حملہ کردیا

اور کار بے قابو ہوکر مخالف سمت سے آنے والی لاری کی طرف چل پڑی لیکن لاری ڈرائیور کی چوکسی کے باعث خطرناک حادثہ ٹل گیا۔ اسی طرح کے کئی واقعات روزانہ شہر کی سڑکوں پر پیش آرہے ہیں لیکن بلدیہ کی جانب سے اختیار کردہ رویہ سے شہریوں میں برہمی پائی جاتی ہے۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں سے کتوں کی کثرت کی شکایات بلدی عہدیداروں کو راست طور پر کی جاچکی ہے، علاوہ ازیں کال سنٹر پر بھی اس بات کی اطلاعات فراہم کی گئی ہیں لیکن اس کے باوجود اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ پہلے رہائشی علاقوں میں آوارہ کتوں کی کثرت ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے رہائشی علاقوں میں یہ مسائل پیدا ہوتے تھے اور رہائشی علاقوں میں گاڑیوں کی رفتار آہستہ ہونے کے باعث بڑے حادثات نہیں ہوا کرتے تھے لیکن کتوں کی کثرت اب شہر کی اہم سڑکوں پر بھی دیکھی جارہی ہے جس سے سنگین حادثات کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔ شہریوں نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ذمہ داران سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر آوارہ کتوں کو پکڑنے کی مہم میں شدت پیدا کرے تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔