پرانے اور نئے شہر میں ٹریفک کے امکانی مسائل کا جائزہ ، جی ایچ ایم سی اور ٹریفک پولیس کا دورہ
حیدرآباد۔15فروری(سیاست نیوز) حیدرآباد میں ترقیاتی کاموں کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے دیگر متعلقہ شعبوں کے عہدیداروں سے مشاورت اور انہیں ترقیاتی کاموں کے آغاز کی صورت میں ہونے والی مشکلات سے واقف کرواتے ہوئے ان کے حل کے سلسلہ میں غور کیا جانے لگا ہے اور شہر کے اطراف و اکناف جاریہ ماہ کے اواخر میں بڑے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کو شروع کئے جانے کا منصوبہ ہے جن میں نئے فلائی اوور برجس کی تعمیر اور نئی ڈرینیج لائنس کی تنصیب کے علاوہ پینے کے پانی کی لائن کی تنصیب وغیرہ شامل ہیں اور ان کاموں کے آغاز کے ساتھ ہی پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر میں بھی ٹریفک مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور ان خدشات کو دور کرنے کے علاوہ شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کو دور کرنے کے اقدامات کے سلسلہ میں مذاکرات شروع کردئیے گئے ہیں اور ان محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ ترقیاتی مقامات کا دورہ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں کہ جن مقامات پر تعمیری و ترقیاتی کام انجام دیئے جانے ہیں ان مقامات پر کسی قسم کے مسائل پیدا نہ ہوں اور نہ ہی عوام اور ٹریفک کو کوئی مسئلہ پیدا ہو۔ بتایاجاتاہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے محکمہ ٹریفک پولیس کے عہدیداروں کے ہمراہ سنتوش نگر‘ اویسی ہاسپٹل سے حافظ بابا نگر اور کنچن باغ کی سڑک کا دورہ کیا اور اس دورہ میںبلدی عہدیداروں نے ان مقامات کا بھی جائزہ لیا جہاں پانی جمع ہونے کی شکایت عام ہیں۔ اسی طرح بہادر پورہ سے میر عالم جانے والی سڑک اور بندلہ گوڑہ سڑک پر بھی فلائی اوور برج کے کاموں کے آغاز کے سلسلہ میں عہدیداروں نے دورہ کرتے ہوئے متبادل راستوں کی کشادگی اور سڑک پر ٹریفک نظام کو بہتر برقرار رکھنے کے اقدامات کے متعلق مشاورت کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کے کئی علاقوں میں جلد ہی ترقیاتی کاموں کی شروعات کے سلسلہ میں بلدی عہدیداروں نے سنجیدہ اقدامات کا آغاز کردیا ہے اور ان اقدامات کو بہتر انداز میں مکمل کرتے ہوئے نئے ترقیاتی و تعمیری کاموں کو شروع کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ عہدیداروں کے مطابق ملک میں عام انتخابات کے اعلامیہ جاری کئے جانے سے قبل یہ تعمیراتی کاموں کا افتتاح کردیاجائے گا۔بتایاجاتاہے کہ شہر حیدرآباد میں عرصہ دراز سے زیر التواء کاموں کو شروع کرنے کے سلسلہ میں جی ایچ ایم سی کو بجٹ جاری کیاجا چکا ہے جس کے سبب یہ ممکن ہو پا رہاہے ۔