شہر میں ’’ مین ہولس ‘‘ کے مسئلہ کی یکسوئی متوقع

جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد واٹر ورکس کے درمیان تنازعہ کے حل کے اقدامات، اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام
حیدرآباد۔/9 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد میٹر و واٹرورکس کے درمیان مین ہولس سے متعلق جاری تنازعہ حل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں، بلدیہ کی جانب سے پریاڈیکل پریونٹیو مینٹننس ( پی پی ایم ) سسٹم کے تحت سڑکیں تعمیر کی جاتی ہیں جس کی وجہ سے سڑکیں مین ہولس سے بلند ہوجاتی ہیں اور نتیجہ میں بلدیہ اور واٹر ورکس کے درمیان تنازعہ پیدا ہوجاتاہے۔ بلدیہ کا کہنا ہے کہ سیلاب کے پانی کے پائپ لائن تک کی ہماری ذمہ داری ہے اور کور ایریا میں واقع گندے پائپ لائنوں کی مرمت ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ جبکہ میٹرو واٹر بورڈ کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی تعمیر کے بعد ہمیشہ مین ہولس کے قد میں اضافہ کرتے ہوئے تعمیر کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ لہذا سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ہی بلدیہ مین ہولس کی مرمت بھی کرے۔ ان حالات میں دونوں محکموں کے درمیان جاری تنازعہ کو حل کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور یہ کمیٹی مین ہولس کی تعمیری دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ مین ہولس کے قد میں اضافہ کرتے ہوئے تعمیری کاموں کی انجام دہی کی ذمہ داری کس محکمہ کی ہوگی اس معاملہ میں سفارشات پیش کرے گی۔ واضح ہو کہ گریٹر کے حدود میں زیر زمین گندے پانی کے پائپ لائن کی ذمہ داری شہری علاقوں میں واٹر بورڈ کے ذمہ ہے جبکہ شہر کے مضافاتی علاقوں میں یہ ذمہ داری بلدیہ کی ہے۔ جبکہ مضافات کے 16 سرکلس میں مختلف حجم والے 3,476 کلو میٹر کی پائپ لائنوں پر 2.96 لاکھ مین ہولس ہیں اور مخصوص علاقوں میں 2,600 کلو میٹر کی حدود میں 2 لاکھ مین ہولس ہیں۔ علاوہ ازیں 1,218 کلو میٹر پر سیلابی پانی کے ڈرینس پر 1.22 لاکھ کیا چیٹ کے ڈھکن ہیں۔ کمشنر بلدیہ دانا کشور نے گریٹر کے حدود میں’’ نو اوپن مین ہولس پالیسی ‘‘کے تحت مین ہولس کے ڈھکنوں پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ اس مناسبت سے دونوں محکموں کی ذمہ داری نبھانے والے مسٹر دانا کشور نے اس مسئلہ کے حل کیلئے ایک کمیٹی کا قیام عمل میں لایا ہے۔ شہر میں سیلابی ڈرینس درست نہ ہونے کی وجہ سے شدید بارشوں کی وجہ سے خراب ہونے والی سڑکوں کی بلدیہ کی جانب سے بروقت مرمت کی جاتی ہے اور فی الحال پی پی ایم اسکیم کے تحت سڑکوں کی تعمیر جاری ہے جس کی وجہ سے اکثر سڑکوں پر مین ہولس سڑکوں سے کم بلندی پر ہیں اور مین ہولس کی وجہ سے حادثات پیش آرہے ہیں۔ الغرض ان تمام باتوں سے صرف نظر اصول و ضوابط کے مطابق بلدیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ جدید سڑکوں کی تعمیر سے قبل قدیم سڑکوں کو کھود کر صفائی کرنے کے بعد جدید سڑکیں تعمیر کرے مگر ان قواعد پر بلدیہ کی جانب سے بالکل ہی عمل آوری نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے سڑکیں بلند ہورہی ہیں۔ نتیجہ میں مین ہولس گڑھوں کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں۔ لہذا ان تمام مسائل کا حل پیش کرنے کیلئے بلدیہ کے چیف انجینئر ضیاء الدین، واٹر بورڈ سی جی ایم وجئے راؤ کے علاوہ دونوں محکموں کے دیگر عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو آپسی مشاورت کے بعد ان مسائل کے حل سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔