شہر میں مچھروں کی بہتات، ملیریا،ٹائی فائیڈ جیسی بیماریوں سے لوگ متاثر

حیدرآباد ۔16 جولائی ( سیاست نیوز ) ۔ شہر حیدرآباد میں ملک کے مختلف مقامات سے لوگ یہاںآ کر اپنی زندگی بڑے سکون سے گذاررہے ہیں اور دیگر شہروں کے مقابلے اس شہر کو ترجیح دے رہے ہیں کیو نکہ یہاں پر صاف صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور یہاں کے لوگ کافی ہمدرد ہوتے ہیں ۔اس کے علاوہ حیدرآبادی لوگ بڑے دل والے اور احسان کرنے والے ہوتے ہیں اس لئے ملک کے مختلف ریاستوں سے آئے لوگوں کو یہاں کے لوگ آسانی سے نوکریاں فراہم کردیتے ہیں۔جس کی وجہ سے شہر میں کئی ریاستوں کے لوگ اپنی زندگی ہنسی خوشی گزار رہے ہیں۔لیکن اب ایسا لگ رہا کہ شہر حیدرآباد میں لوگوں کا جینا مشکل ہوگیا ہے، کیونکہ شہر میں جگہ جگہ کچرے کے انبار اور سڑکوں پر پانی کے جمع ہونے سے مچھروں کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔

اور ان مچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے لوگوں میں طرح طرح کی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔لوگوں کو ہفتے میں ایک تا دو دن دواخانے کے چکر لگانے پڑرہے ہیں۔ دواخانوں میں مریضوں کا ہجوم دیکھا جارہا ہے ۔معصوم بچے ، خواتین ، نوجوان اور ضعیف حضرات سبھی مچھروں کے کاٹنے سے متاثر ہورہے ہیں اور ملیریا ، ٹائی فائیڈ جیسی بیماریاں لاحق ہونے سے پریشان ہورہے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ ان بیماریوں کا علاج موجود ہے لیکن بیماری کی وجہ سے کام کاج متاثر ہوتا ہے اور جسم میں کمزوری ہوجاتی ہے ۔عوام کا حکومت سے سوال ہے کہ بیماریوں کی وجہ جو نقصان ہوتا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟محکمہ بلدیہ کی لاپر واہی کی وجہ سے شہر میں جگہ جگہ کچرے کے انبار پائے جارہے ہیں۔ بارش کی وجہ سے سڑکوں پر پانی جمع ہورہا ہے ۔ اس پانی میں مچھروں کی پیداوار ہورہی ہے ۔ اور یہی مچھرقریبی گھروں میں حملہ کرتے ہوئے لوگوں کا خون چوس رہے ہیں۔

خاص طور سے پرانے شہر میں مچھروں کی بہتات ہے کیونکہ یہاں پر کچرے کی نکاسی کا انتظام سست رفتاری سے چل رہا ہے ۔باوثو ق ذرائع کے مطابق پرانے شہر کے وارڈ 19 کے لئے کچرا اُٹھانے کے لئے گاڑیوں کی کمی پائی جارہی ہے ۔اس وسیع وعریض علاقے کے لئے کچرا اُٹھانے کی کم ازکم 12 گاڑیوں کی ضرورت ہے لیکن محکمہ بلدیہ نے صرف 7 گاڑیاں فراہم کی ہیں۔جس کی وجہ سے کچرے کی نکاسی میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ محکمہ سے جڑے ان گاڑیوں کے ڈرئیوروں نے بھی خدمات محدود کردی ہیں اور دن میں صرف ایک بار کچرا اُٹھاتے ہیں جس کے بعد دن بھر میں کچرا آس پاس پھیل جاتا ہے ۔

اور اس پر ستم اتنا ہی نہیں جب بارش ہوتی ہے تو یہ کچرا پانی کے ذریعہ موریوں میں داخل ہوجاتا ہے اور موریاں اُبل پڑتی ہیں ۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔شہر کے کئی علاقے اس طرح کے مسائل کا شکار ہیں جیسے ٹولی چوکی، مہدی پٹنم ، آرام گڑھ، جہاں نما، وٹے پلی ، بابانگر، تالاب کٹہ ، مصری گنج، نواب صاحب کنٹہ، بہادر پورہ ، کشن باغ وغیرہ زیادہ متاثر ہیں۔ان علاقوں کے لوگوں نے سیاست کو بتایا ہے کہ ان کے گھروں میں کوئی نہ کوئی مچھروں کے کاٹنے سے بیماریوں کا شکا رہورہے ہیں۔یہاں کی عوام نے تلنگانہ حکومت سے اپیل کی ہے کہ محکمہ بلدیہ سے اس مسئلہ پر رپورٹ طلب کریں اور اس مسئلہ کے حل کے لئے فوری احکامات جاری کریں۔پرانے شہر کے لوگوں نے محکمہ بلدیہ کے میئر اور کمشنر سے پُر زور اپیل کی ہے کہ پرانے شہر میں دن میں دو مرتبہ کچرے دانوں کو خالی کرانے کے اقدامات کریں تاکہ عوام کو ہورہی مشکل سے نجات دلائی جاسکے ۔وارڈ 19 کے لوگوں نے مقامی لیڈروں اور ایم ایل ایز سے اپیل کی ہے کہ ا س؎ مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ضروری ہدایات جاری کریں اور عوا م کو بیماریوں میں مبتلا ہونے سے بچائیں۔