حکومت اضافی برقی خریدی کیلئے کوشاں، سرکاری سطح پر حالات پر قابو پانے کی کوشش
حیدرآباد۔8جون ( سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے مختلف علاقوںمیں برقی سربراہی میں خلل روز کا معمول بن چکا ہے ۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں رات کے اوقات کے علاوہ علی الصبح برقی سربراہی میں تقریباً نصف گھنٹہ برقی سربراہی بند کی جارہی ہے ۔ اس کے متعلق کوئی عہدیدار خاطرخواہ جواب دینے کے موقف میں نہیں ہے ۔روزآنہ 6تا 8مرتبہ اس طرح 20منٹ تا آدھا گھنٹہ برقی سربراہی بندکرتے ہوئے زائد از تین گھنٹے برقی سربراہی منقطع رکھی جارہی ہے ۔ شہر میںدھوپ کی شدت اور گرمی کی تمازت کے سبب عوام میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے ۔ اس کے باوجود محکمہ برقی کی جانب سے بلاوقفہ برقی سربراہی کے وعدوں پر عدم عمل آوری سے عوام میں محکمہ برقی کے تعلق سے برہمی دیکھی جارہی ہے۔ پرانے شہر ہی نہیں بلکہ نئے شہر کے بھی کئی علاقوں میںاس طرح کی شکایات روز کا معمول بنتی جارہی ہے لیکن کوئی اعلیٰ عہدیدار اس مسئلہ پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر کرنے تیار نہیں ہے ۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب ریاست کی تقسیم کے بعد محکمہ برقی میں پیداشدہ صورتحال کے باعث یہ حالات پیدا ہورہے ہیں جن پر سرکاری سطح پر قابو پانے کیلئے ممکنہ کوششیں کی جارہی ہیں۔ گذشتہ دو یوم سے رات کے اوقات میں پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں زائد از ایک گھنٹہ برقی سربراہی بند کی جارہی ہے جبکہ صبح کی اولین ساعتوںمیں بھی اسی طرح دو تین مرحلوں میں تقریباً آدھا آدھا گھنٹہ برقی سربراہی میں کٹوتی کی جارہی ہے ۔ اس غیر معلنہ برقی کٹوتی کے متعلق محکمہ برقی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ جو صورتحال محکمہ برقی کی ہے اس طرح کی صورتحال کسی اور محکمہ کی نہیں ہے ۔ کیونکہ تلنگانہ میں محکمہ برقی کے پاس ضرورت کے اعتبار سے پیداوار نہ ہونے کے سبب برقی خریدنی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے اضافی برقی کی خریداری کیلئے جو منصوبہ تیار کیا ہے اُس پر عمل آوری میں مزید دو تا تین ماہ درکار ہوسکتے ہیں اور ان تین مہینوں کے دوران دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ دیہی علاقوں کے عوام کو بھی برقی قلت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے چھتیس گڑھ سے برقی خریدی کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس کے بعد محکمہ برقی کے اعلیٰ عہدیداروں کو بڑی حد تک راحت پہنچی ہے چونکہ عہدیدار محکمہ برقی کے مستقبل اور برقی سربراہی کو مؤثر بنانے کے اُمور کے متعلق فکر مند تھے لیکن اُن کا ماننا یہ ہے کہ اضافی برقی خریداری کے بعد حالات معمول پر آجائیں گے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے عوام میں برقی صورتحال کو لیکر تشویش پائی جاتی ہے ۔ عوام کا استدلال ہے کہ اگر اس طرح کی کوئی صورتحال پیدا ہوچکی ہے تو حکومت کی یا محکمہ برقی کی ذمہ داری ہے کہ وہ باضابطہ معلنہ برقی کٹوتی کا اعلان کریں تاکہ عوام اپنی سہولت کے اعتبار سے کاموں کی تکمیل کرسکیں۔