حیدرآباد ۔ 12 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں موجود 15 اسمبلی حلقہ جات میں خواتین رائے دہندوں کی جملہ تعداد 16 لاکھ 94 ہزار 654 ہوچکی ہے اور ان حلقہ جات اسمبلی میں سب سے زیادہ خاتون رائے دہندگان کی تعداد حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز میں ہے جہاں ایک لاکھ 32 ہزار 328 خواتین فہرست رائے دہندگان میں شامل ہیں جب کہ دوسرے نمبر پر حلقہ اسمبلی نامپلی ہے ۔ جس میں خاتون رائے دہندگان کی تعداد ایک لاکھ 22 ہزار 792 سے متجاوز کر چکی ہے ۔ تیسرے نمبر پر حلقہ اسمبلی مشیر آباد ہے جہاں پر ایک لاکھ 21 ہزار 620 خاتون رائے دہندوں کا فہرست رائے دہندگان میں اندراج ہوا ہے ۔
31 جنوری 2014 تک کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد ہے جب کہ ماہ مارچ میں چلائی جانے والی خصوصی مہم کے باعث ان میں مزید اضافہ ممکن ہے ۔ لیکن خواتین کی فہرست میں معمولی اضافہ ہی ریکارڈ کئے جانے کا امکان ہے ۔ اسی لیے پہلے ، دوسرے اور تیسرے نمبر میں کوئی تبدیلی کی توقع نہیں ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں جو اسمبلی حلقہ جات ہیں ان میں حلقہ اسمبلی مشیر آباد ، ملک پیٹ ، عنبر پیٹ ، خیریت آباد ، جوبلی ہلز ، صنعت نگر ، نامپلی ، کاروان ، گوشہ محل ، چارمینار ، چندرائن گٹہ ، یاقوت پورہ ، بہادر پورہ ، سکندرآباد ، سکندرآباد کنٹونمنٹ شامل ہیں ۔ ان حلقہ جات اسمبلی میں موجود جملہ 35 لاکھ 98 ہزار 152 رائے دہندوں میں 16 لاکھ 94 ہزار 654 خواتین شامل ہیں ۔ حلقہ اسمبلی چارمینار میں سب سے کم خواتین کی تعداد ہے جہاں صرف 80 ہزار 342 خواتین ہیں ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود حلقہ جات اسمبلی میں خواتین کی خاصی تعداد موجود ہے جو کسی امیدوار کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں ۔ اگر خواتین گروپس اس سلسلہ میں مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کے لیے کوشش کریں تو وہ سیاسی جماعتوں کو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں اپنے لیے علحدہ منشور سازی پر مجبور کرسکتی ہیں ۔
دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود خاتون رائے دہندوں کی بڑی تعداد کی توجہ اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے علاوہ بچوں کی تعلیم و دیگر امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ صحت کے مسائل کے حل کے لیے سرکاری سہولتوں پر ہی مرکوز ہے جب کہ بعض مخصوص حلقوں میں خواتین کی توجہ دیگر مسائل جیسے خواتین کے تحفظات ، ملازمت کے مقامات پر جنسی ہراسانی ، سڑکوں پر تحفظ اور آزادی نسواں کے علاوہ دیگر عام مسائل جیسے کرپشن فرقہ واریت ، تعلیمی مواقع و دیگر امور پر بھی ان کی گہری توجہ ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں 15 حلقہ جات اسمبلی میں خواتین رائے دہندوں کی تعداد مرد رائے دہندوں سے تقریبا 2 لاکھ کم ہے لیکن مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود ان 15 حلقوں سے صرف 2 خاتون ارکان اسمبلی موجود ہیں جن میں حلقہ اسمبلی مشیر آباد سے کانگریس کی رکن اسمبلی مسز ٹی مانیما منتخب ہوئی تھیں اور مسز جیہ سدھا کو حلقہ اسمبلی سکندرآباد کے رائے دہندوں نے کانگریس کی امیدوار کی حیثیت سے گزشتہ انتخابات میں منتخب کیا تھا جب کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود حلقہ جات اسمبلی سے خواتین کو منتخب کروایا جاسکتا ہے ۔۔