شہر میں بین الاقوامی کانفرنسوں کے باوجود ناقص تعمیراتی کام

سڑکوں کی تعمیر کا دعویٰ کھوکھلا، گزشتہ کی بارش سے کئی سڑکیں تباہ و برباد
حیدرآباد 13 نومبر (سیاست نیوز) گزشتہ شب دونوں شہروں میں ہوئی موسلا دھار بارش کے سبب شہر کی کئی سڑکیں بہہ چکی ہیں جس سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کئے جانے والے سڑکوں کے تعمیری کاموں کی قلعی کھل گئی ہے۔ دونوں شہروں میں حالیہ دنوں ہوئی دو بڑی کانفرنسوں کے دوران شہر کے بیشتر مرکزی علاقوں کے علاوہ اہم سڑکوں کو مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے نہ صرف خوبصورت بنانے کے اقدامات کئے گئے تھے بلکہ سڑک کی تعمیر کو یقینی بنایا گیا تھا لیکن شہر کی بیشتر سڑکیں گزشتہ یوم 25 منٹ کی بارش کی نذر ہوچکی ہیں۔ ہائی ٹیک سٹی، مادھا پور، کونڈہ پور، خیریت آباد، لکڑی کا پُل، نامپلی، افضل گنج کے علاوہ کئی علاقوں میں سڑکوں پر جگہ جگہ گڑھے پڑچکے ہیں جس سے جی ایچ ایم سی کے تعمیری معیار کا اندازہ ہوتا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو متعدد مرتبہ کئی تنظیموں کے علاوہ منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے اِس جانب توجہ مبذول کروائی جاچکی ہے کہ وہ سڑکوں کی تعمیر کے دوران استعمال کئے جانے والے میٹریل اور اُس کے معیار کا جائزہ لے چونکہ سڑکوں کی تعمیر کے بعد کئی علاقوں سے اِس بات کی شکایات موصول ہوا کرتی ہیں کہ سڑک کی تعمیر کے چند ماہ بعد ہی سڑک کسی نہ کسی وجہ سے خراب ہوجاتی ہے۔ گزشتہ شب ہوئی اچانک بارش کے سبب سڑکوں کی ابتر صورتحال کو فوری طور پر بہتر بنانے کے لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے اعلیٰ عہدیداروں نے اپنے ماتحتین کو ہدایات جاری کردی ہیں تاکہ سڑکوں کی خرابی کے باعث شہر میں ٹریفک کے مسائل نہ پیدا ہوں اور عوام کو راحت پہونچانے کے اقدامات میں تیزی لائی جاسکے۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے سڑکوں کی تعمیر کے وقت ہی اگر معیار کا جائزہ لیا جاتا رہے تو ایسی صورت میں بارش یا دیگر وجوہات کی بناء پر سڑکوں کو جلد نقصان پہنچنے کے خدشات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ اِس سلسلہ میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے محکمہ ویجلنس کو فوری طور پر متحرک بنانے کی ضرورت ہے چونکہ سڑکوں کی تعمیر کے دوران ویجلنس عہدیداروں اور انجینئرس کی جانب سے معیار کا جائزہ لینے پر حقائق سامنے آسکتے ہیں کہ کیوں سڑکیں جلدی خراب ہورہی ہیں۔