حیدرآباد ۔ 19 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز): آٹو میٹیڈ ٹیلر مشین ( اے ٹی ایم ) ان دنوں مجرموں کا پہلا نشانہ ہے کیوں کہ وہ بہ آسانی ایک بڑی رقم حاصل کرسکتے ہیں اور اس کے لیے وہ شہروں کے علاوہ اطراف کے علاقوں میں موجود اے ٹی ایم مشینوں کو اپنے جرائم کا نشانہ بنا رہے ہیں اور عوام کو پولیس اور سائبر کرائم کے انسداد کے محکموں سے بھی انتباہ دیا گیا ہے کہ وہ سنسان علاقوں کے اے ٹی ایم استعمال کرتے وقت زیادہ چوکنا رہیں کیوں کہ کئی ایک ایسے واقعات رونما ہوچکے ہیں جہاں اے ٹی ایم کے اندر خواتین و بزرگ افراد پر حملے کئے گئے ہیں ۔ دریں اثناء ایک ہفتہ کے اندرون شہر کے مضافاتی علاقوں میں اے ٹی ایم کو نشانہ بنایا گیا ہے اور یہ اے ٹی ایم مراکز سائبر آباد پولیس کمشنریٹ کے حدود میں موجود ہیں ۔ پولیس نے اس وقت یہ شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان واقعات میں بین ریاستی ٹولیاں ملوث ہیں جو منصوبہ بند طریقے سے ان اے ٹی ایم کو لوٹ رہے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں اے ٹی ایم اور اے ٹی ایم مراکز میں عوام کو نشانے بنانے کے واقعات میں اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ 9 جنوری 2018 کو کاچی گوڑہ کے اے ٹی ایم سنٹر سے 2 اے سی 18 اگست کو مالا پور کے ایس بی آئی اے ٹی ایم کو 11 اگست 2018 کو چندا نگر کے آئی سی آئی سی آئی اے ٹی ایم کو توڑ کر اس میں 10 لاکھ روپئے سرقہ کیا گیا ہے جب کہ 9 ستمبر کو الوال کے آئی سی آئی سی آئی اے ٹی ایم کو نشانہ بنایا گیا ۔ سائبر آباد کے علاوہ سٹی پولیس نے اے ٹی ایم مراکز پر سیکوریٹی کو محفوظ اور سخت کرنے کی ہدایت بنک کو دی ہے جس کے باوجود اے ٹی ایم کو لوٹنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ۔۔