شہر حیدرآباد کے مقامی نوجوانوں کی بے روزگاری میں اضافہ،تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سرکاری و غیر سرکاری ملازمتوں سے محروم

حیدرآباد ۔ 3 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد کو اے ون شہر کا درجہ حاصل ہے یہاں کی صفائی ، خوشگوار موسم اور ہمدرد لوگ پوری دنیا میں مشہور ہیں ۔ اس لیے یہاں پر دنیا کے کئی مقامات سے لوگ معاش کی تلاش کرتے ہوئے یہاں پہنچ رہے ہیں ۔ دنیا کے کسی بھی مقام کے افراد کے لیے یہ شہر ایک نعمت سے کم نہیں کیوں کہ یہاں پر رہنا ، کھانا اور خریداری انتہائی کم قیمت میں پوری ہوجاتی ہے اور یہاں پر نوکری کرنے والے افراد اپنی تنخواہ میں سے کافی بچت کرتے ہوئے اپنے وطن کو روپے روانہ کرتے ہیں ۔ ملک کے کئی گاؤں ( مواضعات ) سے لوگ یہاں پر نوکری کی تلاش میں آتے ہیں اور کسی بھی طرح سے اچھی ملازمتیں حاصل کرلیتے ہیں ۔ آئے دن شہر میں اترپردیش اور بہار سے تعلق رکھنے والے افراد زیادہ تعداد میں شہر پہنچ رہے ہیں ۔ اترپردیش میں فرقہ وارانہ فسادات اور سیکوریٹی کے مسئلوں کے پیش نظر یو پی کے لوگ شہر منتقل ہورہے ہیں تو دوسری جانب بہار میں بے روزگاری میں مسلسل اضافہ کے پیش نظر وہاں کے لوگ شہر حیدرآباد کو اپنے مسکن میں تبدیل کررہے ہیں ۔ صرف یوپی ، بہار ہی نہیں بلکہ دہلی ، اڈیشہ ، جارکھنڈ ، مدھیہ پردیش ، گجرات ، راجستھان وغیرہ سے کئی افراد شہر میں اپنا ٹھکانہ بنا چکے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ کئی غیر مقامی افراد کاروبار میں مقامی لوگوں کو competition دے رہے ہیں تو کئی غیر مقامی افراد مقامی لوگوں کی نوکریوں پر قبضہ جمائے ہوئے ہیں ۔ ہائی ٹیک سٹی سے لے کر سوپر مارکٹس کے علاوہ پرائیوٹ لمٹیڈ کمپنیوں سمیت بڑے شاپنگ مالس میں غیر مقامی افراد کا دبدہ چل رہا ہے ۔ گاؤں کا ایک شخص شہر میں نوکری کرتے ہوئے گاؤں کے کئی افراد کو دیگر کئی ملازمتوں کے لیے رہنمائی کرتا ہے جس کی وجہ سے مقامی نوجوانوں کو نوکری ملنا مشکل ہورہا ہے ۔ اس میں سب سے زیادہ مقامی لڑکیاں متاثر ہورہی ہے اور خواتین کا کافی نقصان ہورہا ہے ۔ اس کے علاوہ کئی تعلیم یافتہ مقامی نوجوانوں کو غیر معیاری نوکریوں پر ہی اکتفا کرنا پڑرہا ہے ۔ چنچل گوڑہ کے رہنے والے ایک نوجوان محمد حامد علی ، بی ٹیک کرنے کے بعد بھی بے روزگار ہیں ۔ انہوں نے سیاست کو بتایا کہ سرکاری نوکریوں میں اقلیتوں کے لیے مسابقت بہت زیادہ ہے ۔ اس لیے انہوں نے نجی کمپنیوں میں ملازمت کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں ۔ لیکن گذشتہ ایک سال کے دوران کوئی بھی کمپنی میں انہیں ملازمت نہیں ملی ۔ کئی کمپنیوں میں غیر مقامی افراد کو ہی ملازمت فراہم کی جارہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پتہ نہیں یہ ملازمتیں کس بنیاد پر غیر مقامی افراد کو دی جارہی ہیں جب کہ مقامی افراد کے پاس بھی مطلوبہ تعلیم اور صلاحیتیں موجود ہیں ۔ حامد علی نے اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں یہ کوئی سازش کے تحت تو نہیں ہورہا ہے ۔ اس طرح حسن نگر کے زاہد حسین کا کہنا ہے کہ مقامی نوجوانوں کو اگر نوکری مل بھی جائے تو ان کی تنخواہ بہت کم رہتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ پر کئی نجی کمپنیوں کے دفتر کام کررہے ہیں ۔ جو غیر مقامی افراد کو اچھی تنخواہ پر ملازمت فراہم کررہے ہیں جب کہ مقامی نوجوانوں کو کم تنخواہ دے کر احسان جتاتے ہیں ۔ ٹولی چوکی کے رہنے والے ایک نوجوان صدیق نے ہمیں بتایا کہ ان کو کمپیوٹر سبجکٹ سے ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی کوئی موثر نوکری نہیں ملی جس کے بعد انہوں نے بیرون ملک جاکر نوکری کرنے کا ارادہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایمپلائمنٹ کارڈ پچھلے دس سال سے رینیول کرارہے ہیں ۔ لیکن آج تک کوئی نوکری کا لیٹر انہیں موصول نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ جیسے سرکاری نوکریوں میں مقامی افراد کو ملازمت فراہم کرنے کی مساعی کی جارہی ہے ۔ ٹھیک اسی طرح نجی کمپنیوں میں بھی مقامی افراد کی تقرری کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ شہر کے بے روزگار نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار سے جوڑا جاسکے ۔ یاد رہے کہ چند روز قبل محکمہ اقلیتی بہبود اور محکمہ پولیس کی جانب سے پرانے شہر میں ایک جاب میلے کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے اپنے نام درج کرائے ہیں ۔ اس میں نہ صرف نوجوان لڑکے ، لڑکیاں بلکہ شادی شدہ خواتین نے بھی حصہ لیا ۔ اس میلے میں شریک ہونے والے بے روزگار امیدواروں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس طرح کے جاب میلے ہر ماہ میں ایک مرتبہ پرانے شہر میں منعقد کئے جائیں تاکہ پرانے شہر کے ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار حاصل ہونے میں مدد حاصل ہوسکے اور پرانے شہر کی ترقی ہوسکے ۔ اسی طرح شہر کے کئی مقامی نوجوانوں نے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ سے اپیل کی ہے کہ پرائیوٹ کمپنیوں میں مقامی نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمتیں فراہم کرنے کے احکامات جاری کریں تاکہ ریاست کے نوجوانوں کی بے روزگاری کا مسئلہ حل ہوسکے ۔۔