اسلام آباد ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے کیلئے اپنی فوج روانہ کرنے سعودی عرب کی درخواست مسترد کئے جانے کے بعد باہمی تعلقات میں پیدا شدہ کشیدگی کے ازالہ کی ایک کوشش کے طور پر اپنا ایک اعلیٰ سطحی وفد آج سعودی عرب روانہ کیا۔ اس وفد میں وزیراعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے علاوہ امورخارجہ کے مشیر سرتاج عزیز اور معتمدخارجہ اعزاز چودھری بھی شامل ہیں۔ ایران کے مبینہ تائید یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی عرب کے زیرقیادت عرب اتحاد میں سپاہیوں کی روانگی کیلئے تیل کی دولت سے مالا مال اس خلیجی مملکت نے پاکستان سے درخواست کی تھی، جس پر بات چیت کیلئے پاکستانی وزیردفاع خواجہ آصف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد نے گذشتہ ماہ ریاض کا دورہ بھی کیا تھا۔ دفترخارجہ کی خاتوج ترجمان نے توثیق کی کہ ایک پاکستانی وفد آج ریاض روانہ ہوا ہے جو توقع ہیکہ سعودی ولیعہد مقرن بن عبدالعزیز اور وزیردفاع پرنس محمد بن سلمان سے ملاقات کرتے ہوئے یمن کے تنازعہ میں پاکستان کے غیرجانبدار موقف پر سعودی عرب میں پیدا شدہ غصہ میں کمی کی کوشش کرسکتا ہے۔ سعودی عرب شاہی خاندان کے نواز شریف کے ساتھ شخصی و خاندانی روابط ہیں لیکن مسئلہ یمن پر پاکستان کے فیصلہ سے سعودی شاہی خاندان خوش نہیں ہے کیونکہ وہ پاکستان سے قابل لحاظ تعداد میں زمینی فوج، فضائی قوت اور بحری جنگی جہازوں کی یمن میں تعیناتی کے خواہاں تھے لیکن یمن کی جنگ میں پاکستان کے ملوث ہونے کی بڑے پیمانے پر مخالفت کی گئی تھی۔ کئی سیاسی قائدین اور ریٹائرڈ فوجی جنرلوں نے مسلکی اساس پر پیدا شدہ یمنی تصادم کا حصہ بننے کے خلاف حکومت پاکستان کو خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے اندرون ملک مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کے اگرچہ سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں لیکن اس کے ساتھ پڑوسی ایران کے ساتھ بھی مساویانہ طور پر بہتر خوشگوار تعلقات ہیں۔ ایران نے یمن میں مداخلت کے مسئلہ پر سعودی عرب کی مخالفت و مذمت کی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب دو کلیدی سنی ممالک ہیں اور خلیجی مملکت گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان کو اس کی بدحال معیشت بہتر بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر امداد مہیا کرتا رہا ہے۔