سالانہ فلکیاتی عمل آسمان کے شمال مشرقی حصے میں دکھائی دیگا : ڈاکٹر سدھارتھ
حیدرآباد ، 11 اگسٹ (سیاست نیوز) زیادہ روشن شہاب ثاقب (Perseids) کی سالانہ بارش اس بار 13 اگسٹ کو نقطہ عروج پر پہنچے گی، ڈاکٹر بی جی سدھارتھ ڈائریکٹر برلا سائنس سنٹر حیدرآباد نے یہ بات کہی۔ نمائندہ روزنامہ سیاست سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سدھارتھ نے بتایا کہ شہاب ثاقب کی یہ بارش مدار کے مخصوص حصے میں ہوتی ہے۔ چونکہ زمین خود اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے اس خطے کی طرف پہنچتی ہے، اس لئے ٹوٹے ہوئے تاروں کا کچھ ملبہ زمین کی طرف آجاتا ہے، اس طرح ماحول کو روشن کردیتا ہے۔ یہی ہمیں ٹوٹے ہوئے ستاروں کے طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ سب Constellation Perseus کی سمت سے پھوٹتے نظر آتے ہیں۔ بالعموم یہ کافی تعداد میں ہوتے ہیں لیکن اس مرتبہ معمول کے چاند کے مقابل کافی روشن ماحول کی صورتحال معاملے کو پیچیدہ بناتی ہے۔ شہاب ثاقب کی اس نوعیت کی سالانہ بارش ہر اگسٹ میں پیش آتی ہے اور 9 تا 13 اگسٹ عروج پر ہوتی ہے۔ یہ بارش آسمان میں جس سمت سے پھوٹتی دکھائی دیتی ہے وہ شمال مشرقی حصہ ہوتا ہے۔ یوں تو آسمانوں میں سال تمام کئی بار دیگر دم دار ستارے ٹوٹ کر گرنے سے روشنی ہوتی رہتی ہے لیکن شہاب ثاقب کی ایسی بارش کا ماہرین فلکیات اور نجوم کو یکساں تجسس کے ساتھ انتظار رہتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اس بارش کے نقطہ عروج میں کسی اندھیرے مقام سے فی گھنٹہ 60 تا 100 شہاب ثاقب دیکھے جاسکتے ہیں۔ مشاہدہ کرنے والے لوگ یہ بارش شمالی نصف کرہ فلکی میں دیکھ سکتے ہیں۔ اگر کوئی ان ٹوٹے ستاروں کی بارش دیکھنا چاہیں تو وہ آسمان کے شمال مشرقی حصے میں واقع نور افشاں (radiant) اور آسمان میں ٹھیک آپ کے اوپری مقام یا سمت الراس (zenith) کے درمیان دیکھ سکتے ہیں۔ اس کیلئے آسان طریقہ یہ ہے کہ بس فرش پر گدا بچھا کر لیٹ جائیں اور اپنی نظروں کو آسمان میں دوڑائیں ۔ جلد یا بہ دیر آپ شہاب ثاقب کی بارش بہ آسانی دیکھ سکتے ہیں۔ اس کیلئے بہترین وقت طلوع آفتاب سے عین قبل ہے۔