شکست کے خوف سے تبصروں کی غلط تاویل کا الزام

نئی دہلی ۔ 5 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) حریفوں کی جانب سے اپنے ’’استصواب عامہ‘‘ تبصرہ پر تنقید کا نشانہ بنیں گے۔ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہاکہ سیاسی طبقہ کے بعض گوشے ان کے بیان کی غلط تاویل کررہے ہیں کیونکہ انہیں اپنی شکست کا خوف ہے۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ وزیراعظم کے اختیارات کو مسخ نہیں کیا جانا چاہئے اور ہر ریاستی انتخابات ان کی کارکردگی کے بارے میں عوامی رائے نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ میرا مطلب یہ تھا کہ وزیراعظم کے اختیارات کی جانچ ہر ریاستی اسمبلی انتخابات میں نہیں کی جاسکتی لیکن ان کے تبصرہ کو غلط معنی پہناتے ہوئے ایسے افراد نے مسخ کردیا ہے جنہیں دہلی انتخابات میں اپنی ناکامی یقین ہوگیا ہے۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دہلی کے عوام بی جے پی کو ایک بار پھر زبردست فتح سے نوازیں جیسا کہ کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں حالیہ مہینوں میں ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی ترقی مرکزی حکومت کے ساتھ بڑی حد تک مربوط ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دہلی کے عوام بی جے پی کی تائید کریں گے تاکہ مرکزی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعہ دہلی کی ترقی ہوسکے۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ سیاسی طبقہ اور ذرائع ابلاغ کے چند گوشے اوپنین پولس کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی تائید کی دلیل پیش کررہے ہیں۔ انہیں جان لینا چاہئے کہ تازہ ترین 5 اوپنین پولس میں سے 4 میں واضح طور پر بی جے پی کی کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہلی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی یقینی ہے۔ بیشتر اوپنین پولس نے دہلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو سبقت حاصل رہنے کا اندازہ لگایا ہے لیکن وینکیا نائیڈو نے کہا کہ دہلی میں انتخابی کامیابی کو مرکز کی نریندر مودی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں استصواب عامہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے پارٹی کی جارحانہ انتخابی مہم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے ہاتھ کون مضبوط کرے گا۔ اسی کی دہلی کی حکومت کو بھی ضرورت ہے اور دہلی کے عوام کی امنگوں کی تکمیل کیلئے ایسی ہی حکومت کا قیام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی اور کجریوال کا کوئی تقابل ہی نہیں ہے۔ کجریوال مودی کے خلاف واراناسی میں لوک سبھا انتخابات میں ہار چکے ہیں۔ وزیراعظم کو تقریباً 4 ارکان پارلیمنٹ کی تائید حاصل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا دہلی انتخابات کو مودی حکومت کی کارکردگی کا استصواب عامہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ وینکیا نائیڈو نے اظہار حیرت کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹرا، جھارکھنڈ، ہریانہ اور جموں و کشمیر کے انتخابات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا یہ بھی استصواب عامہ تھے۔ وینکیا نائیڈو کے تبصرہ کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے قومی صدر بی جے پی امیت شاہ نے دہلی میں کہا کہ یقینا اسمبلی انتخابات کا مقصد چیف منسٹر کا انتخاب ہوتا ہے، وزیراعظم کا انتخاب نہیں۔ اس لئے اس رائے دہی کو مرکزی حکومت کے بارے میں استصواب عامہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نریندر مودی اسمبلی انتخابات میں مقابلہ نہیں کررہے ہیں ۔ انہوں نے صرف اس کی انتخابی مہم چلائی ہے۔