ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی کا جی ایم آر کمپنی کے عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس
حیدرآباد 23 اپریل (سیاست نیوز) جی ایم آر کمپنی نے شمس آباد انٹر نیشنل ایر پورٹ کے پارکنگ علاقہ میں نماز جمعہ کے موقع پر شامیانوں کے انتظام سے اتفاق کرلیا ہے۔ ہر جمعہ کے موقع پر مصلیوں کی سہولت کیلئے جی ایم آر کی جانب سے عارضی ٹینٹ نصب کیا جائے گا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج اقلیتی بہبود کے اعلی عہدیداروں اور جی ایم آر کمپنی کے وائس پریسیڈنٹ رمیش بابو کے ساتھ اجلاس منعقد کیا ۔ رمیش بابو کو نماز جمعہ کے موقع پر مسلم ملازمین اور مسافرین کو ہونے والی دشواریوں سے واقف کرایا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے جی ایم آر حکام سے خواہش کی کہ وہ کوئی مناسب حل تلاش کریں تا کہ ورکرس ‘ڈرائیورس‘ ملازمین اور ایر پورٹ آنے والے مسلم افراد کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں دشواری نہ ہو ۔ جی ایم آر کے وائس پریسیڈنٹ رمیش بابو نے عارضی شامیانہ نصب کرنے سے اتفاق کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی نے کمپنی سے خواہش کی کہ وہ نمازیوں کیلئے کوئی مستقل انتظام کریں تا کہ دھوپ اور مانسون کے موقع پر بارش سے بچ سکیں۔ جی ایم آر کے عہدیدار نے تیقن دیا کہ کمپنی مصلیوں کی سہولت کا خیال کرتے ہوئے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔ اجلاس میں حج 2015 کیلئے حج ٹرمینل کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ عازمین حج کی روانگی اور واپسی کے موقع پر موثر انتظامات کے سلسلہ میں جی ایم آر کی توجہ مبذول کرائی گئی ۔ رمیش بابو نے گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی بہتر انتظامات کا تیقن دیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حج ٹرمینل کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے بہت جلد ایر پورٹ کا دورہ کیا جائے گا۔ اس موقع پر اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ‘ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر ‘اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور موجود تھے۔ واضح رہے کہ ایر پورٹ کے بیرونی حصہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں مصلیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ سابق میں جی ایم آر کی جانب سے عارضی ٹینٹ نصب کیا جارہا تھا تاہم حالیہ عرصہ میں یہ سلسلہ روک دیا گیا ۔ ایر پورٹ کے ڈرائیورس اور ملازمین کی جانب سے مختلف جماعتوں کے قائدین سے نمائندگی کی گئی تھی۔ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے بھی کل جی ایم آر کے اعلی عہدیداروں سے اس سلسلہ میں نمائندگی کی تھی اور حکام نے عارضی شامیانہ نصب کرنے سے اتفاق کیا تھا ۔