حیدرآباد ۔ 19 جولائی ۔ سوشیل میڈیا پر آج کل گذشتہ سال اور چند سال قبل کے وہ ویڈیوز پھر ایک بار دکھائی دے رہے ہیں جس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ قانون کے ماہر بساط سیاست پر چالیں چلنے میں اپنا جواب نہ رکھنے والے پاکستانی سیاستدانوں کی دین اور دینی تعلیم سے دوری کو ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے علم کے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہوں۔ اس کا شمار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرفہرست قانون دانوں میں ہوتا ہو۔ آئن و قانون کا جسے پنڈت سمجھا جاتا ہو، جس کے نام کے ساتھ بیرسٹر جڑا ہوا ہو مغربی ممالک کی یونیورسٹیز میں جو قانون سیاست عالمی صورتحال دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے موضوعات پر اپنے لکچررس کے ذریعہ لوگوں پر اپنی دانشمندی کی دھاک جمانے میں کامیاب رہا ہو ایسے شخص سے یہی امید کی جاتی ہیکہ وہ دینی علم بھی رکھتا ہوگا۔ شریعت سے اچھی طرح واقف ہوگا لیکن افسوس دنیا کے نقشہ پر ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے وجود میں آنے والی پاکستان کے اس سینئر بیرسٹر اعتزاز احسن کو سورہ اخلاص یاد نہیں۔ لوگ فیس بک پر اس طرح کا ویڈیو گشت کرارہے ہیں جس میں اعتزاز احسن آصف علی زرداری کی ایک استقبالیہ تقریب میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ ان کا خیرمقدم کررہے ہیں۔ ایک مرحلہ پر تلاوت بھی انہوں نے شروع کی اور سورہ اخلاص کی تلاوت میں بار بار غلطیاں کرتے رہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس بااثر سیاستداں نے برطانیہ سے قانون کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ یہی نہیں انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی بھی ناروے کے شہری آئون جانس سے کی۔ وہ پاکستان سپریم کورٹ کی بار اسوسی ایشن کے سربراہ بھی رہ چکے۔ تین وزرائے اعظم کے مقدمات لڑنے کا بھی انہیں اعزاز حاصل رہا لیکن دینی تعلیم کے معاملہ میں وہ انتہائی جاہل نکلے۔ پاکستان کے ممتاز سیاستدانوں کی دین سے دوری کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کے دوران وزیرداخلہ کے باوقار عہدہ پر فائز رہے۔ سابق بیورو کریٹ اور برطانوی شہریت کے حامل رحمن ملک بھی کابینی اجلاس میں سورہ اخلاص کی صحیح تلاوت نہ کرسکے۔ انہوں نے سورہ اخلاص تین مرتبہ پڑھا لیکن ہربار غلطیاں کرتے رہے۔ ایک اور اہم سیاستداں مشاہد حسین سید بھی جنہوں نے دنیاوی علم اور سیاست کے میدان میں کافی تیر مارے ہیں سورۃ الفلق کی تلاوت کرنے سے قاصر رہے۔ انہیں یہ سورہ یاد ہی نہیں رہا۔ ایک موقع پر انہیں سورہ فلق کی تلاوت میں غلطیاں کرنے کے باعث شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تو دین اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے پاکستان کے کچھ ممتاز سیاستدانوں کی دینی علوم سے لاعلمی اس کے برعکس 19 نومبر 1975ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئی بالی ووڈ اداکارہ اور سابقہ حسینہ عالم ششمیتا سین جن کا تعلق رقص و سرور کی محفلوں سے ہے، وہ مسلمان نہیں۔ اسلام کے بارے میں شاید ان کا سوچنا ہوکہ رحمن ملک مشاہد حسین سید اور اعتزاز احسن بہت کچھ جانتے ہیں اور اس کی اپنی معلومات صفر ہو لیکن ناچ گانوں کے ذریعہ لوگوں کی تفریح و طبع کا سامان کرنے والی ششمیتاسین دینی معلومات میں ایسا لگتا ہیکہ مذکورہ پاکستانی سیاستدانوں سے بہت آگے ہیں۔ گذشتہ سال مسلمان ماہ رمضان المبارک کی مبارکباد دیتے ہوئے ششمیتاسین نے اپنے پیام میں کہا تھا ’’آپ سب کو تہہ دل سے رمضان کے مہینے کی بہت بہت مبارکباد پیش کرتی ہوں‘‘۔ یہ کہنے کے بعد ششمیتاسین نے یہ کہتے ہوئے سورہ العصر کی تلاوت کی اور اس کا ترجمہ پیش کیا کہ میں اس سورہ میں بہت یقین رکھتی ہوں۔ سورہ العصر پڑھنے کے بعد ششمیتاسین نے اس سورہ میں اللہ عزوجل نے جو ہدایت دی ہے اس کا مفہوم اس طرح پیش کیا۔ ہر اس انسان کو جس میں صبر ہے اس میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ اسے زندگی میں جو چاہے وہ ملتا ہے۔ ششمیتا نے مسلمانوں کو ماہ رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے یہ بھی کہا میرے دل سے یہ دعا ہیکہ آپ کے دل میں جو خواہش وہ وہ صبر کے ساتھ پوری ہو۔ سوشل میڈیا پر ششمیتا سین اعتزاز احسن اور پاکستان کا اعلیٰ ترین سیول اعزاز نشان امتیاز حاصل کرنے والے رحمن ملک کے ویڈیوز لاکھوں لوگ دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے شہر میں بھی فی الوقت پاکستانی سیاستدانوں کی دین کے دوری اور ششمیتا سین کو سورہ العصر پڑھنے کا معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ جن لوگوں نے بھی رحمن ملک اور اعتزاز حسن کے ویڈیوز دیکھے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا۔ یوٹیوب پر ششمیتاسین اور پاکستانی سیاستدانوں کے ویڈیوز دیکھ کر ایک نوجوان انجینئر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا پانے کے چکر میں اس طرح کے لوگ اپنی آخرت تباہ کررہے ہیں۔ ان لوگوں کیلئے اب بھی موقع ہیکہ دین سے قریب ہوجائیں بلکہ دین میں داخل ہوجائیں ورنہ انہیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ
زندگی بے بندگی شرمندگی
mriyaz2002@yahoo.com