شریعت الہیٰ کے بجائے نفس کی پیروی پر دیکھا گیا کہ حقوق روندے گئے

جامع مسجد عالیہ گن فاونڈری میں شریعت انفارمیشن سرویس کی نشست ، اقبال احمد انجینئر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : شریعت اسلامی سارے انسانوں کے لیے ہے ۔ تخلیق انسان کے وقت ہی کہا گیا تھا کہ اللہ رب العزت نے ہدایت کا انتظام کردیا ہے اور زمانے کے اعتبار سے جیسے جیسے ضرورت ہوگی ۔ اللہ کے احکامات ، رسولوں کے ذریعہ پہونچائے جائیں گے ۔ کس کی عبادت کریں اور کیسی زندگی گزاریں یہ ہدایات دینے کا حق صرف اللہ واحد کو ہی ہے ۔ وہی کائنات کا مالک ہے اور انسانوں کا خالق ہے ۔ انسانوں کی بھلائی کس میں ہے وہی واقف ہے ۔ شریعت الہیٰ پر چلنے سے بندے کا ہی فائدہ ہے ۔ جب جب انسانوں نے شریعت الہیٰ کے بجائے اپنے نفس و خواہش کی پیروی کی تو کبر و فخر کو موقع ملا اور زمانے نے دیکھا کہ انسانی حقوق روندے گئے اور زمین فساد سے بھر گئی ۔ یہ سوال مخالفین سے آتا ہے کہ شریعت اسلامی قدیم ہے اور موجودہ زمانے میں بھلا اس کا اطلاق کیسے ہوگا ۔ کہنے کو اس سوال میں بڑا زور معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقی جائزہ میں یہ سوال بے عقلی کی دلیل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار کانفرنس ہال جامع مسجد عالیہ گن فاونڈری میں شریعت انفارمیشن سرویس کی 599 ویں نشست کو بعنوان ’شریعت کے بعض پہلو اور مختلف مذاہب ‘ مخاطب کرتے ہوئے جناب اقبال احمد انجینئر نے کیا ۔ نشست کا آغاز قاری عبدالواحد کی قرات کلام پاک سے ہوا ۔ مقرر نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ انسانوں کے درمیان قدیم زمانے سے موجودہ زمانے تک کیا بدلا ہے ۔ انسان کی تخلیق کے لیے مرد و زن کی ضرورت ہے ۔ زندہ رہنے کے لیے غذا کی ضرورت ہے ۔ نقل مقام کے لیے سواری کی ضرورت ہے ۔ خاندان کے لیے رشتوں کی اہمیت ہے ۔ ترقی کے نام پر صرف اتنا ہوا ہے کہ وہ وسائل و ذرائع میں اضافہ ہوا۔ تحقیق و تجربات سے انسان نے ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں ۔ جیسے جیسے ضروریات بڑھتی گئیں اس کی تکمیل کے لیے نئی ٹکنالوجی کا استعمال کیا ہے ۔ لیکن ازدواجی زندگی وہی ہے ۔ میاں بیوی کے رشتوں میں ذمہ داریاں وہی ہیں۔ عائلی زندگی میں قرابت داروں کے حقوق کی وضاحت وہی ہے ۔ قومی سطح پر شہری اور شہریت کے اصول وہی ہیں ۔ بین الاقوامی معاملات میں ملکوں کے مفادات کا تحفظ ہے ۔ نظریاتی اور تہذیبی بنیادیں انسانی افکار و تخیلات کے رہین منت ہیں تو پھر بتائیے کہ کیا تبدیلیاں آئی ہیں ۔ جس میں اقدار بدلے ہیں ۔ والدین سے حسن سلوک کا رواج اپنی جگہ ہے ۔ بڑوں کا احترام کے اپنے معنی ہیں اور اسلامی شریعت تو عدل و انصاف کو قائم کرنا چاہتی ہے ۔ احسان کرنے کی ترغیب دیتی ہے ۔ انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین کرتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان کی جان کی حرمت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے ۔ اسلامی شریعت یہی پیغام دیتی ہے کہ اقتدار صرف اللہ ہی کا ہے ۔ موت یقینا لازم ہے اور موت کے بعد کی زندگی یقینی ہے اور میدان حشر میں جوابدہی بڑی سخت ہے ۔ ہر انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے ۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ۔ اب بتائیے کہ ایسا بین الاقوامی پیغام کس شریعت میں موجود ہے ۔ جواب یہی ہے کہ نہیں ہرگز نہیں ۔ اس لیے شریعت اسلامی میں آج کی گمراہ انسانیت کی ہدایت کا واحد حل ہے جس میں اللہ واحد کی عبادت اور اس کے بندوں کی خدمت مضمر ہے ۔ جناب غلام یزدانی سینئیر ایڈوکیٹ و کنوینر محفل نے خطاب پر تبصرہ کیا ۔ دعا پر نشست برخاست ہوئی ۔۔