سنی علماء بورڈ کا اجلاس ، مختلف شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد۔30اگست(سیاست نیوز) تین طلاق کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے متعلق سنی علماء بورڈ کا اجلاس شطاریہ مسکن دبیر پورہ میںمنعقد ہوا۔ صدر بورڈ مولانا حامد حسین شطاری نے نگرانی جبکہ مفتی حسن الدین ‘ فاروق علی خان ‘عبدالقدو س غوری‘ ایم ستار‘ پروفیسر پرویز تنویر الدین ‘ ظفر اللہ کے علاوہ دیگر نے شرکت کی ۔ مولانا عظمت اللہ کی قرات کلام پاک سے اجلاس کا آغاز ہوا۔ مولانا حامد حسین شطاری نے ایک قرارداد پیش کرتے ہوئے کہاکہ کل ہند سنی علماء بورڈ کا احساس ہے کہ شرعی فیصلوں کے نفاذ کے لئے شرعی قاضی کی ضرورت ہوتی ہے اور طلاق ثلاثہ کے نفاذ کو سمجھنے سے مسلم پرسنل لاء بورڈ قاصر رہا ہے مزید یہ کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ سپریم کورٹ کو یہ سمجھانے سے قاصر رہا کہ شریعت کے احکام اللہ اور اس کے رسول ؐ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کے لئے ہیںدوسروں کے لئے نہیںاور اس مسئلہ کے حل کے لئے حکومت فی الفور حنفی عقائد یا پھر علماء سے بات کرے،تین طلاق کے مسئلے پر سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے اس کے تناظر میںمختلف نکات پر غور خوص کیاگیااور یہ نتیجہ اخذ کیاگیا ہے کہ اس میںصرف سنی حنفی فقہ پر کارضرب لگائی ہے او رمعزز ججوں نے شریعت کی تشریح کرنے کی کوشش کی ہے جو انکے دائرکار سے باہر ہے اور اس بات کا سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میںاعتراف بھی کیاہے۔انہوں نے کہاکہ آخر کار سنی علما ء بورڈ کی شرعی رائے اور شرعی فیصلہ یہ ہے کہ شریعت میںمداخلت کا کسی کو حق حاصل نہیں ‘ بالفرض اگر مسلمان خود شریعت میںتبدیلی یا مداخلت کرنا چاہیں تو بھی شریعت میںتبدیلی نہیںکرسکتے۔ قرارد داد کو اجلاس میںموجود تمام افراد نے منظور کیا۔ مفتی حسن الدین نے کہاکہ کسی بھی صورت میںمسلمانوں شریعت میںمداخلت کو برداشت نہیںکرسکتا اور طلاق ثلاثہ کو کالعدم قراردینے سے دیگر پیچیدگیوں کے سامنے آنے کے خدشات صاف طور پر دیکھائی دے رہے ہیں۔