شرعی عدالتوں اور فتوی کی قانونی اہمیت نہیں

کسی مذہب نے بے گناہ کو سزا کا حق نہیں دیا : سپریم کورٹ
نئی دہلی 7 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج رولنگ دی کہ شرعی عدالتوں اور فتووں کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اگر کوئی شخص مذہبی رائے حاصل کرنے کیلئے رجوع نہ ہو تو کسی دارالقضاء یا مفتی کی جانب سے فتوی جاری کرتے ہوئے اس پر مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتی ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مذہب اور عقیدہ کو بے قصور افراد کو نشانہ بنانے استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کسی بھی قانون نے فتووں کو تسلیم نہیں کیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے عمرانہ کیس کا حوالہ دیا اور کہا کہ فتووں کے نتیجہ میں کسی بھی فرد کے حقوق کو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حالانکہ مذہبی نقطہ نظر سے فتوی ایک قابل قدر شئے ہے لیکن اسے اس وقت لاگو نہیں کیا جاسکتا جب اس کے نتیجہ میں کسی فرد کے بنیادی حقوق کی پامالی ہوتی ہو۔ جسٹس سی کے پرساد پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ کسی بھی مذہب ‘ بشمول اسلام میں بے قصور افراد کو سزا دینے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ بنچ نے حکم جاری کیا کہ کسی بھی دارلقضا کو ایسے فیصلے نہیں دینے چاہئیں جس سے اس شخص کے حقوق متاثر ہوں جو ان کے سامنے پیش نہ ہوا ہو۔ عدالت نے وکیل وشوا لوچن مدن کی مفاد عامہ کی ایک درخواست پر یہ فیصلہ سنایا جس نے اپنی درخواست میں شرعی عدالتوں کی دستوری حیثیت پر سوال کیا تھا اور کہا تھا کہ شرعی عدالتیں ملک میں ایک متوازی عدلیہ نظام چلا رہی ہیں۔ کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ نے قبل ازیں کہا تھا کہ فتوی تمام افراد کیلئے ماننا لازم نہیں ہے اور یہ صرف ایک مفتی کا خیال ہوتا ہے اور اس کو اس پر عمل آوری کو یقینی بنانے کا کوئی حق یا اختیار حاصل نہیں رہتا ۔ پرسنل لا بورڈ کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ اگر کوئی فتوی کسی شخص پر اس کی مرضی کے خلاف مسلط کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ عدالت سے رجوع ہوسکتا ہے۔ درخواست گذار نے کہا تھا کہ مسلم تنظیموں کی جانب سے مقرر کئے جانے والے قاضیوں اور مفتیوں کی جانب سے جاری کئے جانے والے فتووں کے ذریعہ مسلمانوں کے بنیادی حقوق پر کنٹرول یا ان کو کم نہیں کیا جاسکتا ۔ درخواست گذار وکیل وشوا لوچن مدن نے فیصلے کے بعد میڈیا سے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ فتووں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اس کے باوجود اگر کوئی شرعی عدالتوں سے رجوع ہونا چاہتے ہیں یہ تو یہ ان کی مرضی ہے ۔