نئی دہلی۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکز اور وقف بورڈ نے آج دہلی ہائیکورٹ کو بتایا کہ شاہی امام جامع مسجد کی جانب سے ان کے فرزند کو بحیثیت نائب و جانشین تقرری کوئی قانونی جواز نہیں رکھتی۔ چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس آر ایس اینڈلا پر مشتمل بینچ کے روبرو مباحث کے دوران یہ موقف پیش کیا گیا۔ عدالت تین مفادِ عامہ کی درخواستوں کی سماعت کررہی ہے جن میں شاہی امام جامع مسجد کی جانب سے 22 نومبر کو تقریب دستار بندی کو چیلنج کیا گیا ہے۔ مولانا سید احمد بخاری اپنے فرزند کو نائب امام مقرر کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور وہ ان کے جانشین ہوں گے۔ وقف بورڈ نے عدالت کو بتایا کہ عنقریب ایک اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں مولانا بخاری کے خلاف کارروائی کے بارے میں غوروخوض کیا جائے گا۔ مرکزکی نمائندگی ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کی۔ بورڈ نے عدالت کے سوال کے جواب میں یہ بات کہی کہ مولانا سید احمد بخاری کے خلاف کارروائی پر غوروخوض کیلئے عنقریب اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
عدالت نے وقف بورڈ سے پوچھا تھا کہ اس مسئلہ پر بورڈ کا قانونی موقف کیا ہے۔ ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل نے یہ تجویز پیش کی کہ تقریب جانشینی کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے اور یہ تقریب جامع مسجد کے علاوہ کسی دیگر مقام پر منعقد کی جاسکتی ہے۔ بینچ نے درخواست گزاروں، مرکز اور بورڈ کی بحث کی سماعت کے بعد کہا کہ وہ اپنا حکم جاری کرے گی۔ عدالت نے مباحث کے دوران یہ بھی سوال کیا کہ کیا جامع مسجد بورڈ کی زیرنگرانی ہے، اور اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو بورڈ اس مسئلہ پر کیا کررہا ہے۔ عدالت کا یہ احساس تھا کہ اگر بورڈ تمام اُمور کا مجاز ہے تو اسے اس معاملے کی تحقیقات کرتے ہوئے ضروری اقدامات کرنا چاہئے۔ وقف بورڈ نے یہ اعتراف کیا کہ جامع مسجد اس کی نگرانی میں ہے اور موجودہ امام اپنے طور پر کسی کا جانشین کی حیثیت سے تقرر نہیں کرسکتے اور اگر وہ ایسا کریں تو بورڈ کی توثیق کے بغیر اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ بورڈ نے یہ بھی کہا کہ وہ جامع مسجد کا متولی ہے اور اس کیلئے انتظامی کمیٹی کا تقرر کیا جارہا ہے۔