شاہی امام نے اسکولوں میں اردو سے تعصب اور ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کی مذمت کی

نئی دہلی 22 اگست (سیاست ڈاٹ کام)شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں مسلمانوں کو ہدایت کی کہ فرقہ وارانہ تشدد برپا کرنے والوں اور اشتعال انگیزی کرنے والوں سے ہوشیار رہیں اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ نیز سوجھ بوجھ کے ساتھ ایسے لوگوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں ۔ انہو ںنے کہا یو پی میں اس طرح کی کوششیں صوبائی حکومت کو بد نام کرنے کیلئے اور مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنے کیلئے قصداً کی جارہی ہیں اور بہت چھوٹے چھوٹے واقعات کو ثبوت بناکر فساد بھڑکانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ لونی ضلع غازی آباد میں ایک ہفتہ سے یہی صورتحال ہے اور ایسا لگتا ہے کہ فرقہ پرستوں پر کوئی روک ٹوک یا قانونی گرفت نہیں ہے اندیشہ ہے کہ لونی اور مضافات میں تشدد نہ بھڑک جائے اس پر انتظامیہ کو فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔

ایک رپورٹ کاخفیہ محکمہ اسپیشل برانچ پولیس راجستھان کی طرف سے میڈیا میں افشا ہوئی ہوا ہے جس میں ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس نے جے پور کے سرکردہ لوگوں پر الزام لگایا کہ یہ لوگ (مسلمان) جے پور کے قریب و جوار میں غریب ہندوؤں سے جگہ خرید کر مسجدیں بنارہے ہیں اور ایک مسجد بنا بھی چکے ہیں حالانکہ اس رپورٹ میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ ہماری مرکزی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے اپیل ہے کہ جان بوجھ کر فرقہ پرستی پھیلانے والوں اور تشدد برپا کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ہر حال میں تحفظ فراہم کیا جائے ۔خفیہ محکمہ بھی اگر ملوث ہوجائیگا تو پھر امن کیسے رہ جائے گا۔ شاہی امان نے 123 وقف جائیداوں کو مسلمانوں کو واپس کئے جانے کا مطالبہ دہرانے کے ساتھ سنٹرل وقف کونسل اور محکمہ اوقاف وقف بورڈوں سے اپیل کی کہ اس سلسلے میں قانونی کارروائی میں کوئی غفلت نہ برتی جائے اور ان جائیدادوں کو واپس لینے کیلئے قانونی پختہ کارروائی کی جائے ۔ انہو ںنے فرمایا کہ سابقہ یو پی اے حکومت نے ان جائیدادوں کو مسلمانوں کو دیئے جانے کا فیصلہ بہت دیر سے کیاتھا اس وجہ سے اس عمل میں رخنہ پڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس تو یہ ہے کہ وقف جائیدادیں مسلمان کی ہیں اور مسلمانوں نے ہی انہیں وقف کیا ہے تا کہ مسلم قوم ان سے فائدہ اٹھاسکے اور واقفین کیلئے صدقہ جاریہ ہو ۔ اس پر غیروں کو تو قبضہ کرنے کا کوئی حق ہی نہیں ہے ۔ پورے ہندوستان میں وقف اراضی پر غاصبانہ قبضے ہورہے ہیں دہلی میں تو پانچ ستارہ ہوٹل ،پبلک اسکول ،گورنمنٹ دفاتر اور ہوائی اڈے بنے ہوئے ہیں اور اگر یہ اراضی اوقاف کو واپس مل جائیں تو مسلمانوں کا بھلا ہوسکتا ہے لہذا سنٹرل وقف کونسل اور وقف بورڈوں کو ذہین اور ماہر وکلاء کی مدد سے ان اراضی کی واپسی کی کارروائی کرنی چاہئے ہماری حکومت ہند سے بھی اپیل ہے کہ اس سلسلے میں جلد کارروائی کی جائے ۔ دہلی کے تقریبا 100اسکولوں میں اردو تعلیم کے ساتھ تعصب برتے جانے کی شاہی امام نے مذمت کی ۔