مغربی بنگال میں جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کا نیٹ ورک موجود : پولیس
گوہاٹی 8 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پولیس نے ادعا کیا ہے کہ آسام پولیس کی جانب سے بردوان دھماکہ کیس میں اصل مشتبہ ملزم شاہنور عالم سے ہوئی پوچھ تاچھ کے نتیجہ میں شاہنور کے بردوان دھماکہ میں ملوث رہنے کا انکشاف ہوگیا ہے ۔ علاوہ ازیں جماعت المجاہدین بنگلہ دیش سے اس کے روابط بھی سامنے آگئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اس تنظیم نے مغربی بنگال میں اپنا ایک نیٹ ورک بنالیا ہے ۔ اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس ۔ اسپیشل برانچ پلب بھٹاچارجی نے بتایا بردوان دھماکہ میں شاہنور کے ملوث ہونے کا پتہ چل گیا ہے ۔ وہ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش گروپ سے بردوان میں رابطہ میں تھا ۔ اس کے بعد اس کی اس تنظیم میں شمولیت کیلئے حوصلہ افزائی کی گئی ۔ اسے یہ بھی اطلاع دی گئی تھی کہ چونکہ یہ تنظیم بنگلہ دیش کے خلاف کام کر رہی ہے اس لئے اس پر دباؤ ہے ۔ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ پڑوسی مغربی بنگال میں پناہ حاصل کی جائے ۔ یہیں سے یہ نیٹ ورک قائم ہوا ۔ اس سوال پر کہ آیا شاہنور نے آسام میں بھی جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کے نیٹ ورک یا اس کی موجودگی کی کوئی اطلاع دی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کی سرگرمیاں آسام میں کوئی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان میں سے کچھ جو یہاں تھے وہ مفرور ہیں ۔ صورتحال آسام میں سنگین نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت المجاہدین بنگلہ دیش کے لیڈرں نے ان نوجوانوں کو اپنی تنظیم میں شامل کیا ہے جن پر وہ اثر انداز ہوسکتے تھے ۔ شاہنور کو ہتھیاروں سے متعلق کسی طرح کی فوجی تربیت نہیں دی گئی ہے تاہم وہ نوجوانوں کو ورغلانے میں مہارت رکھتا ہے ۔ مسٹر بھٹا چارجی نے کہا کہ شاہنور کی ٹریننگ نوجوانوں کو رغلانے اور جماعت میں شامل کرنے کی تھی ۔ ہماری حکمت عملی اب یہ ہے کہ شاہنور کے خیالات کو بدلا جائے ۔ شاہنور عالم کو بردوان دھماکہ کیس میں اصل ملزم قرار دیا گیا تھا اور اس کے سرپر پانچ لاکھ روپئے انعام کا اعلان این آئی اے نے رکھا تھا ۔ اسے آسام پولیس کی اسپیشل آپریشن یونٹ نے نلباری ضلع میں 5 ڈسمبر کو گرفتار کیا تھا ۔ ایک مقامی عدالت نے اسے 14 دن پولیس تحویل میں دیا تھا ۔