لندن۔16مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) دولت اسلامیہ (آئی ایس) نے ایک اور قتل عام کرتے ہوئے 23شہریوں بشمول 9بچوں کو شام میں گولی مار کر ہلاک کردیا ۔ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس رامی عبدالرحمان نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم نے سرکاری ملازمین کے خاندان کو نشانہ بنایا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ اخبار دی ڈیلی اسٹار نے بھی اس قتل عام کی خبر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ دوسری طرف ایک جنگجو نے بتایا کہ جس علاقہ میں شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اس کے قریب واقع ایک جیل پر بھی حملہ کیا گیا کیونکہ دولت اسلامیہ کے کچھ ارکان کو اس جیل میں قید کیا گیا ہے اور دولت اسلامیہ کیلئے ہتھیاروں کی سربراہ راست ایئرپورٹ سے کی جارہی ہے جس سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ ہتھیاروں کے ذخیرے ایئرپورٹ پر لائے گئے ہیں ۔ اسی دوران یونیسکو سربراہ آئرینا بوکووا نے دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے حملوں کے دوران 2000 سال پرانے قدیم شہر کی باقیات و کھنڈرات کو مزید نقصان نہ پہنچائیں جو یونیسکو کی ایک عالمی ہیریٹج عمارت ہے ۔ اگر داعش ( دولت اسلامیہ ) قدیم عمارتوں کو بھی عمارتوں کو بھی نہیں بخشیں گے تو یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہوگا جو قدیم منادر ‘ تاریخی عمارتوں کی باقیات اور مزاروں کو تباہ کررہے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دولت اسلامیہ قائد ابوبکر البغدادی نے بھی ایک آڈیو پیغام جاری کیا ہے ۔