واشنگٹن 21 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی خصوصی کارروائی کرنے والی افواج نے شام میں خفیہ دھاوا صدر امریکہ بارک اوباما کے اشارہ پر شروع کردیا ہے تاکہ صحافی ڈینس فولے اور دیگر امریکیوں کو جنھیں دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں نے یرغمال بنا رکھا ہے، بچایا جاسکے۔ لیکن یہ ’’پیچیدہ‘‘ کارروائی ناکام ہوگئی اور بچاؤ ٹیموں کا تخلیہ کروادیا گیا۔ قصر صدارت اور وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹرس دونوں نے کل تسلیم کیاکہ شام میں امریکی شہریوں کو دولت اسلامیہ کے یرغمال بننے سے بچانے کے لئے ایک خفیہ کارروائی کی گئی تھی۔ یہ انکشاف دولت اسلامیہ عراق و شام کی جانب سے اِس پریشان کن ویڈیو کی نمائش کے بعد منظر عام پر آیا جس میں اُس کے ارکان میں سے ایک دو فولے کا سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
فولے کا اغواء شام سے نومبر 2012 ء میں کیا گیا تھا۔ اوباما انتظامیہ نے اِس بات کی توثیق نہیں کی کہ یرغمالیوں میں جیمس فولے بھی شامل تھا لیکن ذرائع ابلاغ کی کئی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ وہ اُن یرغمالیوں میں سے ایک تھا۔ اوباما انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں کے بموجب خصوصی افواج ایک دور افتادہ علاقہ میں اُتاری گئی تھیں۔ محکمہ سراغ رسانی کے عہدیداروں کو شبہ ہے کہ یرغمالیوں کو یہی حبس بیجا میں رکھا گیا ہے۔ یہ خفیہ کارروائی جس میں بے شمار امریکی کمانڈوز شریک تھے، جن میں سے ایک عسکریت پسندوں کے ساتھ ہولناک جھڑپ میں زخمی ہوگیا۔ امریکی کارروائی کے بارے میں پہلی اطلاع تھی۔
شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد وہاں پر امریکی خصوصی فوج کی موجودگی کا اوّلین ثبوت تھا۔ روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے بموجب 6 یوروپی یرغمالیوں کو عسکریت پسندوں نے گزشتہ موسم گرما میں رہا کردیا تھا اور امریکی محکمہ سراغ رسانی نے اُن سے تفتیش کی تھی۔ روزنامہ نے کہاکہ اِس کارروائی میں فضائی اور زمینی فوج کے دونوں شعبے شامل تھے جس کا مرکز توجہ خاص طور پر داعش کا یرغمالی بنانے کا نیٹ ورک تھا۔ بدقسمتی سے یہ کارروائی کامیاب نہ ہوسکی کیونکہ جس مقام کو یرغمالیوں کا قید خانہ سمجھ کر کارروائی کی گئی تھی وہاں یرغمالی موجود نہیں تھے۔ وزارت دفاع امریکہ کے ترجمان جان کربی نے کہاکہ صدر اوباما نے اِس کارروائی کی اجازت دی تھی۔ صدر امریکہ کی ایک مددگار برائے داخلی سلامتی و انسداد دہشت گردی لیزا مونیکو نے کہاکہ حکومت امریکہ کو یقین تھا کہ محکمہ سراغ رسانی کے پاس کافی ثبوت موجود ہے اِس لئے جب موقع ملا تو صدر امریکہ نے محکمہ دفاع کو یرغمالیوں کو بچانے کے لئے جارحانہ کارروائی کی اجازت دے دی لیکن بدقسمتی سے یہ کارروائی کامیاب نہ ہوسکی کیونکہ یرغمالی مبینہ قید خانہ میں موجود نہیں تھے۔