شامی خانۂ جنگی میں 2 لاکھ افراد کے ہلاک: رپورٹ

نیویارک۔ 24؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ اقوام متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ تین برس سے زائد عرصے سے جاری خانۂ جنگی میں اب تک تقریباً 2 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اصل تعداد اس سے بھی زائد ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ایک رپورٹ میں پیش کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 85 فیصد مرد ہیں جب کہ خواتین اس تعداد کا 9 فیصد ہیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق 8,800 بچے بھی اس خانۂ جنگی کا شکار ہو چکے ہیں، تاہم ان بچوں کی عمروں کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ جولائی 2013ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی طرف سے شامی خانۂ جنگی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد جاری کی گئی ہے۔ مارچ 2011ء میں شروع ہونے والے شامی تنازعہ کے بعد سے جولائی 2013ء تک ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد بتائی گئی تھی، ملک کی قریب آدھی آبادی یعنی 22.8 ملین افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ادارہ کے ترجمان روپرٹ کول وِل کے مطابق ’’ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں دو گنا سے بھی بڑھ گئی ہے، جیسا کہ رپورٹ سے واضح ہے، بدقسمتی سے یہ تعداد بھی تین برس سے جاری اس خونریز تنازعہ کے دوران ہلاکتوں کی اصل تعداد سے کہیں کم ہے‘‘۔

شام میں ہلاکتوں میں اضافے کی ایک وجہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسند گروپ داعش کی طرف سے کی جانے والی کارروائیاں بھی بنی ہیں۔ یہ گروپ اپنے مخالف گروپوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ خاص طور پر شام کے علاقوں میں مغرب کے حمایت یافتہ باغی اور کرد ملیشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو۔ مخالف گروپوں کو نشانہ بنانے کا مقصد شامی علاقوں اور وسائل پر اپنی گرفت مضبوط کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں جاری کردہ اعداد وشمار شامی مرکز برائے اعداد و شمار و تحقیق اور شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق سے حاصل شدہ معلومات کی روشنی میں مرتب کئے گئے ہیں۔ مارچ 2011ء میں شروع ہونے والے تنازعہ کے باعث اب تک ملک کی قریب آدھی آبادی یعنی 22.8 ملین افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق قریب 30 لاکھ شامی ہمسایہ خلیجی ممالک میں بطور مہاجرین رجسٹرڈ ہوچکے ہیں جبکہ دیگر 6.5 ملین افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر شام کے اندر ہی محفوظ مقامات پر پناہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔