متھرا 26 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دو بھائیوں کی دو بہنوں کے ساتھ ہونے والی شادی کا کلائمکس جیل کی سلاخوں کے پیچھے اختتام پذیر ہوا کیونکہ دولہوں کی جانب سے دلہنوں کے والدین سے زائد نقد رقم اور جہیز کا مطالبہ کرنے پر انھیں جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ گرما گرم بحث نے تشدد کا رُخ اختیار کرلیا جس میں دولہا اور دلہن کی جانب سے جملہ چھ افراد زخمی ہوگئے۔ دریں اثناء پولیس نے بتایا کہ ہاتھرس سے ایک میاریج پارٹی موضع منت ملا پہنچی تھی۔ شادی کے مقام پر پہنچنے کے فوری بعد دولہے والوں کی ٹیم نے جہیز میں دی جانے والی اشیاء کا معائنہ کیا جو وہاں رکھی گئی تھیں۔ یہ دیکھ کر اُنھوں نے موٹر سائیکل اور زائد نقد رقم کا بھی مطالبہ کیا۔
حالانکہ جہیز میں کافی سامان دیا گیا تھا اس کے باوجود دونوں دولہے اس بات کیلئے بضد تھے کہ اُنھیں فی کس ایک ایک موٹر سائیکل دی جائے اور ایک لاکھ روپئے نقد بھی حوالے کئے جائیں۔ لڑکی والوں کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ جب اُن کے مطالبات کی تکمیل ہوتی نظر نہیں آئی تو دولہے والوں نے جہیز کے سامان کی توڑ پھوڑ شروع کردی جس کے بعد پولیس کو طلب کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ اپنی ایف آئی آر پر دلہنوں کی والدہ ستو نے بھی یہی بات دہرائی۔ تشدد میں چھ افراد زخمی ہوئے۔ بہرحال پولیس کے بروقت وہاں پہونچنے اور دونوں دولہوں اجیت اور روی کو گرفتار کرنے کے بعد حالات قابو میں آگئے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ یوپی میں جہیز کے خلاف تحریک چلائی جارہی ہے۔ اس کے باوجود بھی ایسے واقعات رونما ہونے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ خود ہی جہیز کو لعنت سمجھتے ہوئے اپنی محنت کی کمائی سے سازو سامان خریدنے کو ترجیح دیں۔