بے جا رسومات ، اسراف اور جہیز کی لعنت ختم کرنے پر زور ، مولاناسید شاہ مظہر حسینی صابری کا بیان
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مارچ : ( پریس نوٹ ) : مولانا سید شاہ مظہر حسینی صابری مشیر اعلی عالمی جمعیتہ المشائخ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں شادی میں ایک کھانا ایک میٹھا کی مہم کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے آقا محمد ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت فرمایا اس کے ساتھ نکاح کو آسان اور زنا کو مشکل کرنے کا حکم فرمائے ۔ شادیوں میں اسراف اور پھر کھانوں میں بے شمار لوازمات سے تواضع مسائل پیدا کردئیے ہیں ۔ کھانا کھلانے کا اسلام میں حکم ہے مہمان نوازی کا حکم ہے ۔ مگر جھوٹی شان لوگوں کو متاثر کرنے اپنے بڑے ہونے کا احساس دلانے کے لیے قرض لے کر ، سود پر بھاری رقم لے کر مہمان نوازی یا شادی میں کھانے کا انتظام کرنا دونوں گناہ ہیں ۔ سود لینے والا اور سود کی رقم کا کھانا اور کھانے والا سب گناہ گار ہوں گے ۔ دولت مندوں کی دیکھا دیکھی جھوٹی شان و شوکت کے مظاہروں کو اسلام نے پسند نہیں فرمایا ۔ شادی عنوان پر آج امت محمدی بے شمار مسائل سے دوچار ہے ۔ جہیز ، لین دین ، جوڑے گھوڑے ، آرکسٹرا پارٹیاں یہ سب حرام ہیں ۔ نکاح جیسے مقدس عمل کو اللہ کی نافرمانیاں کر کے گناہوں میں مبتلا ہونا دانش مندی نہیں ، شہر اور اضلاع میں درد مندانہ ملت نے ایک کھانا ایک میٹھا شادی میں مہم شروع کی ہے جس کی عالمی جمعیتہ المشائخ مکمل تائید کرتی ہے ۔ ملت کو اس مہم پر عمل کرنا چاہئے ۔ شادیوں میں بہت سا کھانا ضائع ہو کر کچرے کی کنڈی میں پھینکا جارہا ہے جو شریعت اسلامی اور تہذیب کے خلاف ہے ۔ آقائے دو جہاں ﷺ کھانے کی عزت کی تعلیم دئیے ہیں ۔ نکاح کو آسان کریں ۔ ہزاروں لڑکیاں آج اسراف کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہیں ۔ اس کے خلاف امت کے ہر فرد کو کھڑے ہونا چاہئے ۔ وقت پر نکاح اور سادگی سے کریں ۔ ہر مسلمان اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل ہی نجات کا ذریعہ ہے تو پھر نکاح میں سنت رسولؐ کا خیال کیوں نہیں رکھا جارہا ہے ۔ خوشی منائیں مگر اللہ کو راضی کر کے۔ اسراف کے خلاف جدوجہد وقت کی ضرورت ہے اس مہم کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے ۔۔