شادی مبارک اسکیم کو آندھرا پردیش حکومت بھی اختیار کرے گی

غریب لڑکیوں کی انفرادی امداد کی تجویز پر غور ، چار رکنی کمیٹی تشکیل
حیدرآباد۔/18نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی کیلئے امداد کی فراہمی سے متعلق ’ شادی مبارک‘ اسکیم کو آندھرا پردیش حکومت نے بھی اختیار کرنے کا من بنالیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اجتماعی شادیوں کی اسکیم کے بجائے آندھرا پردیش حکومت بھی شادی کے موقع پر غریب لڑکیوں کیلئے انفرادی طور پر امداد فراہم کرنے کی تجویز رکھتی ہے۔ حکومت نے تلنگانہ کی ’ شادی مبارک‘ اسکیم کا جائزہ لیا اور اسکیم کے بارے میں اقلیتوں میں پائی جانے والی خوشی کی لہر کو دیکھتے ہوئے آندھرا پردیش نے بھی اسی طرز پر غریب خاندانوں کی امداد کا فیصلہ کیا ہے تاہم اسکیم کے نام کا تعین کیا جانا باقی ہے۔ تلنگانہ کی ’شادی مبارک‘ اسکیم کے طرز پر آندھرا پردیش میں بھی اسکیم کا نام زیر غور ہے۔ اسی دوران حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے تشکیل دی گئی مشاورتی کمیٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ اجتماعی شادیوں کے اہتمام اور ہر جوڑے کو 25ہزار روپئے مالیتی ضروری سامان کی فراہمی کی بجائے شادی سے قبل یکمشت امداد دی جانی چاہیئے تاکہ غریب خاندانوں کو شادی کے اخراجات کی پابجائی میں مدد ملے۔ کمشنر اقلیتی بہبود آندھرا پردیش شیخ محمد اقبال ( آئی پی ایس) کی صدارت میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے کنوینر پروفیسر ایس اے شکور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن ہیں۔ کمیٹی نے حکومت کو سفارش پیش کی ہے کہ شادی سے قبل غریب اقلیتی طبقہ کی لڑکی کے اکاؤنٹ میں 50ہزار روپئے منتقل کئے جائیں۔ تلنگانہ حکومت نے امدادی رقم 51ہزار مقرر کی ہے۔ کمیٹی نے اسکیم سے استفادہ کیلئے آمدنی کی حد کو ایک لاکھ سے بڑھا کر 2لاکھ روپئے کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ پیدائش کے سلسلہ میں آدھار کارڈ کو بنیاد بنایا جائے گا۔ کمیٹی نے حکومت سے اس سلسلہ میں بجٹ میں اضافہ کی تجویز پیش کی تاکہ زیادہ سے زیادہ غریب خاندانوں کو اسکیم سے فائدہ پہنچے۔ حکومت کی جانب سے ان سفارشات کی منظوری کے بعد آندھرا پردیش میں بھی تلنگانہ کی طرز پر امدادی اسکیم کا آغاز ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش حکومت نے سابقہ اجتماعی شادیوں کی اسکیم کو بجٹ میں برقرار رکھتے ہوئے 50لاکھ روپئے مختص کئے ہیں جس کے تحت حکومت اجتماعی شادیوں کا اہتمام کرتی ہے اور غریب جوڑے کو 25ہزار روپئے کے ضروری سامان مہیا کئے جاتے ہیں۔ اس اسکیم پر عمل آوری میں بعض دشواریوں اور مستحق خاندانوں کو معاشی امداد پہنچانے کیلئے آندھرا پردیش حکومت نے بھی اسکیم میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ بہت جلد وزیر اقلیتی بہبود ڈاکٹر پلے رگھوناتھ ریڈی کی منظوری کے بعد نئی اسکیم اور اس کی شرائط کا اعلان کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے مختص کردہ 50لاکھ کے بجٹ میں صرف 100خاندانوں کو امداد فراہم کی جاسکتی ہے لہذا کمیٹی نے بجٹ میں اضافہ کی سفارش کی ہے۔