شادی مبارک اسکیم سے 20 ہزار خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کا منصوبہ

حیدرآباد۔15۔اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت مالیاتی سال کے آخری چار ماہ میں شادی مبارک اسکیم کے تحت کم از کم 20,000 غریب خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اسکیم کے اعلان میں تاخیر کے سبب چار ماہ میں 40,000 شادیوں کیلئے امداد کی فراہمی کے نشانہ کی تکمیل ممکن نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے شادی مبارک اسکیم پر کامیابی سے عمل آوری میں اپنی سنجیدگی کا اظہار کرتے ہوئے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ فوائد میں ضروری نرمی کے ساتھ جلد از جلد اسکیم پر عمل آوری کا آغاز کردیں۔ انہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے مذکورہ اسکیم پر عمل آوری پر تبادلہ خیال کیا۔ حکومت نے ابتدائی مرحلہ میں اس اسکیم کیلئے کم از کم 50 کروڑ روپئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسکیم پر عمل آوری شروع کی جاسکے۔ غریب اقلیتی خاندانوں کی لڑکیوں کی شادی کے سلسلہ میں 2 اکتوبر سے اسکیم کا آغاز کیا گیا ، جس کے تحت 51,000 روپئے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے چیف منسٹر سے ملاقات کے بعد بتایا کہ چندر شیکھر راؤ اقلیتی بہبود کے بجٹ کے مکمل خرچ اور اسکیمات پر موثر عمل آوری کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے گزشتہ 58 برسوں میں اقلیتی بہبود کیلئے جو کچھ کیا ہے ، ٹی آر ایس حکومت ایک سال میں اس سے کہیں زیادہ اقدامات پر عمل کر دکھائے گی۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت پر کی جارہی تنقیدوں کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ عوام نے جن پارٹیوں کو مسترد کردیا ہے، انہیں عوامی مقبول حکومت پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی تشکیل کو ابھی چار ماہ مکمل ہوئے ہیں اور چندر شیکھر راؤ پاک و صاف نظم و نسق کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ تاکہ اسکیمات پر عمل آوری میں شفافیت برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام نے ٹی آر ایس پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے اسے اقتدار عطا کیا ہے اور حکومت عوامی توقعات کو بہر صورت پورا کرے گی۔ تلنگانہ عوام کو یقین ہے کہ تمام طبقات کی یکساں ترقی کے ذریعہ سنہرے تلنگانہ کی تشکیل صرف ٹی آر ایس سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شادی مبارک اسکیم کے تحت اگرچہ تمام اقلیتوں کو شامل کیا گیا ہے لیکن آبادی کے اعتبار سے اسکیم میں 85 فیصد حصہ داری مسلم اقلیت کی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی کے بجٹ کی اجرائی میں دفتریت کے سبب رکاوٹ پیدا ہوئی ہے اور وہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ کم از کم ایک کروڑ روپئے میں فوری طور پر حج کمیٹی کو جاری کئے جائیں تاکہ وہ حج کیمپ کے اخراجات کی تکمیل کرسکے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں وزیر فینانس ای راجندر سے بھی بات چیت کی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کا کہناہے کہ آل انڈیا سرویسس کے عہدیداروں کے الاٹمنٹ میں تاخیر کے سبب تلنگانہ میں مختلف محکمہ جات کیلئے علحدہ عہدیدار نہیں ہے اور موجودہ عہدیداروں کو زائد ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ محمد محمود علی نے بتایا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ آئندہ دو ماہ میں سرکاری اقلیتی اداروں کے نامزد عہدوں پر تقررات کے حق میں ہیں اور پارٹی کے قیام سے وابستہ قائدین کو ترجیح دی جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر آئندہ ہفتہ توقع ہے کہ بنجارہ ہلز منسٹرس کوارٹرس منتقل ہوجائیں گے۔ تاہم وہ ہفتہ میں دو دن پرانے شہر کے اعظم پورہ میں واقع قیامگاہ میں عوام کیلئے دستیاب رہیں گے۔