شادی مبارک اسکیم سے خاطر خواہ استفادہ سے مسلمان قاصر

تاحال 6088 درخواستوں میں سے 1662 کی یکسوئی ، اسکیم سے متعلق تلنگانہ کے گاؤں گاؤں میں مہم چلانا ضروری
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مئی : ( نمائندہ خصوصی ) : کے سی آر حکومت نے غریب مسلم لڑکیوں کی شادیوں کے لیے اکٹوبر 2014 میں شادی مبارک اسکیم کا آغاز کیا تھا جس کے تحت 20000 مسلم لڑکیوں کو شادی کے موقع پر فی کس 51,000 روپئے کی مالی امداد فراہم کی جارہی ہے ۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں اقلیتوں کے لیے 1030 کروڑ روپئے مختص کئے جن میں سے شادی مبارک اسکیم کے لیے 100 کروڑ مقرر کئے گئے ہیں تاہم لاکھ کوششوں کے باوجود مسلمان اس اسکیم سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں ۔ شادی مبارک اسکیم کے بارے میں آج یعنی 5 مئی کی تاریخ تک جو اعداد و شمار منظر عام پر آئے ہیں اس کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے ضلع رنگاریڈی کے مسلمان اس اسکیم سے استفادہ کرنے میں دیگر اضلاع سے آگے ہیں ۔ حیدرآباد میں 7723 غریب لڑکیوں کو ان کی شادیوں کے لیے فی کس 51,000 روپئے مالی امداد فراہم کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے لیکن تاحال صرف 1831 لڑکیوں کے ناموں کا اندراج عمل میں لایا گیا ۔ ان میں سے 566 درخواستیں منظور کی گئیں اور ان کے بلز بھی تیار کردئیے گئے ہیں ۔ عادل آباد میں 1261 لڑکیوں کو امداد فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا لیکن 5 مئی تک 737 لڑکیوں نے درخواستیں دی ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ضلع عادل آباد میں اب تک صرف 91 درخواستوں کو منظوری دی گئی جس سے اس ضلع میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار اور مقامی سیاسی قائدین کی اس اسکیم میں عدم دلچسپی کا اظہار ہوتاہے ۔ ضلع کریم نگر میں جملہ 1078 دختران ملت کو امداد کی فراہمی کا نشانہ مقرر کیا گیا اس ضلع میں مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہے اور کئی مسلم تنظیمیں بھی وہاں سرگرم ہیں ۔ لیکن جملہ 260 سرپرستوں نے اپنی لڑکیوں کے لیے درخواستیں پیش کیں ۔ جن میں سے ایک بھی درخواست منظور نہیں کی گئی ۔ حد تو یہ ہے کہ ابھی 130 درخواستوں کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے ۔ کریم نگر کی مسلم تنظیموں کو اس مسئلہ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ غریب اور متوسط خاندان کی ان لڑکیوں کو فی کس اکیاون ہزار روپئے حاصل ہوسکیں جن کی شادیاں ہورہی ہیں یا اسکیم کے آغاز کے بعد ہوئی ہیں ۔ تلنگانہ کے ضلع کھمم میں بھی مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہے ۔ اس ضلع میں 769 لڑکیوں کو امداد فراہم کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا لیکن تاحال 145 ناموں کا اندراج عمل میں لایا گیا اور اس میں سے 53 درخواستوں کو منظوری دی گئی ۔ ضلع محبوب نگر میں 1436 لڑکیوں کو امداد دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ۔ 486 درخواستیں موصول ہوئیں لیکن ایک بھی درخواست منظور کی گئی اور نہ ہی کوئی بل تیار کیا گیا ۔ اس معاملہ میں محبوب نگر کے مسلمانوں کو خصوصی توجہ دینی ہوگی ۔ میدک کے لیے 1513 لڑکیوں کو امداد کا نشانہ رکھا گیا تھا ۔ 635 لڑکیوں کے سرپرستوں نے درخواستیں داخل کی ہیں ، جن میں سے 225 درخواستوں کو منظوری دیتے ہوئے ان کے بلز بھی تیار کردئیے گئے ۔ ضلع نلگنڈہ حیدرآباد سے بہت قریب ہے اس ضلع کے مسلمانوں کو شادی مبارک اسکیم سے مستفید کرانے کے لیے کوششیں جاری ہیں یہاں کی 926 لڑکیوں کو مدد کا نشانہ مقرر کیا گیا ۔ 295 درخواستیں داخل کی گئیں اور اب تک 164 درخواستوں کی یکسوئی کی گئی ۔ یہی حال ضلع نظام آباد کا ہے 1634 لڑکیوں کی امداد کا نشانہ رکھاگیا 651 کے ناموں کا اندراج عمل میں آیا اور تاحال 204 درخواستوں کو منظوری دی گئی ۔ ضلع رنگاریڈی میں 2303 لڑکیوں کو شادی مبارک اسکیم کے تحت فی کس 51 ہزار روپئے دینے کا نشانہ مقرر کیا گیا ۔ 855 ناموں کا اندراج عمل میں آیا ۔ 235 درخواستوں کو منظور کرلیا گیا ۔ ورنگل کے لیے 964 کا ہدف رکھا گیا 194 درخواستیں داخل کی گئیں 125 کی منظوری عمل میں آئی ۔ بہر حال ان تمام اضلاع میں مسلم تنظیموں کو سرگرم ہوجانے کی ضرورت ہے ۔ روزنامہ سیاست نے شادی مبارک اسکیم سے غریب و متوسط مسلم خاندانوں کو مستفید کرانے کے لیے باقاعدہ تشہیری مہم شروع کر رکھی ہے اور درخواستوں کا مفت آن لائن ادخال عمل میں لایا جارہا ہے ۔ اگر آئمہ و خطباء مساجد جمعہ کے خطبات میں مسلمانوں کو اس اسکیم سے استفادہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تو امید ہے کہ 20000 لڑکیوں کو فی کس 51 ہزار روپئے حاصل ہوں گے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ 19607 لڑکیوں کو امداد کا جو نشانہ مقرر کیا گیا اس کے لیے تلنگانہ کے 10 اضلاع میں 6088 درخواستیں داخل کی گئیں ۔ جن میں سے اب تک 1662 درخواستوں کی منظوری عمل میں لاکر ان کے بلز بھی تیار کردئیے گئے ۔۔