اتوار کو بھی بنکوں پر خواتین کی کثیر تعداد میں آمد ، صداقت نامہ آمدنی و ذات حاصل کرنے میں مشکلات
حیدرآباد ۔ 24 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی) : حکومت تلنگانہ کی شادی مبارک اسکیم کے بارے میں پرانا شہر کے اقلیتوں میں زبردست جوش و خروش دیکھا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ کے سی آر حکومت نے دلتوں اور قبائلی لڑکیوں کے ساتھ ساتھ مسلم لڑکیوں کی شادیوں کے لیے 51 ہزار روپئے فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اتوار کو اسٹیٹ بنک آف انڈیا چندو لال بارہ دری بہادر پورہ پر خواتین کی ایک کثیر تعداد جمع تھی ۔ بنک کے عہدیدار بھی ان پریشان حال خواتین و لڑکیوں سے بھر پور تعاون کررہے تھے ۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت 51 ہزار روپئے کی سرکاری امداد حاصل کرنے کے لیے انکم سرٹیفیکٹ ، ذات کا سرٹیفیکٹ ، صداقتنامہ پیدائش دولہا اور دولہن کے آدھار کارڈس ( اگر دستیاب ہوں تو ) بنک پاس بک کے پہلے صفحہ کی اسکیان کردہ کاپی ، شادی کا رقعہ وغیرہ شامل ہے اس اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ بہ وقت شادی لڑکی کی عمر 18 سال مکمل ہو اور اس کی شادی 2 اکٹوبر 2012 یا اس کے بعد انجام پائی ہو 2 اکٹوبر کے بعد جن لڑکیوں کی شادیاں ہوئی ہیں ان کے والدین بھی درخواست دینے کے اہل ہیں ۔ اس کے علاوہ اب شادی سے ایک ماہ قبل بھی درخواست دی جاسکتی ہے ۔ اسکیم سے استفادہ کرنے والی لڑکیوں کے والدین کی مشترکہ آمدنی دولاکھ سے زائد نہ ہو ۔ درخواستیں شادی مبارک اسکیم کے ویب سائٹ پر ’’ می سیوا ‘‘ کے ذریعہ داخل کی جاسکتی ہیں یا پھر متعلقہ اضلاع کے ڈی ایم ڈبلیو او یا ای ڈی ( اے پی ایس ایم ایف سی ) کو راست پیش کی جاسکتی ہے ۔ عوام کو چاہئے کہ وہ درمیانی آدمی ( دلالوں ) سے ہوشیار رہتے ہوئے درخواست فارمس داخل کریں ۔ بعض خواتین نے بتایا کہ دفتر منڈل ریونیو سے انکم سرٹیفیکٹس اور کاسٹ سرٹیفیکٹ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں اور اس کے لیے درمیانی آدمی عوام کا بآسانی استحصال کررہے ہیں ۔ ان خواتین کے خیال میں حکام کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔۔