صرف 166 درخواستوں کی منظوری ، تلنگانہ سے 810 درخواستوں کی وصولی ، شرائط میں نرمی کے احکام کی عدم اجرائی
حیدرآباد۔22۔ڈسمبر (سیاست نیوز) غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد سے متعلق شادی مبارک اسکیم کا آغاز ہوئے تقریباً 2 ماہ مکمل ہونے کو ہیں لیکن عمل آوری کی رفتار انتہائی سست ہے۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران صرف 166 درخواستوں کو منظوری دی گئی جبکہ تلنگانہ کے 10 اضلاع میں 810 درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ اس طرح درخواستوں کی وصولی اور منظوری کی رفتار حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ اس صورتحال کیلئے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ شرائط ذمہ دار ہیں۔ ایک طرف حکومت شرائط میں نرمی کا اعلان کر رہی ہے لیکن اس سلسلہ میں باقاعدہ احکامات کی عدم اجرائی کے سبب عہدیدار درخواستوں کی قبولیت کے لئے تمام شرائط کی تکمیل پر اصرار کر رہے ہیں۔ طئے شدہ شراط کے مطابق درخواست گزاروں کو آدھار کارڈ کی پیشکشی لازمی قرار دی گئی۔ اس شرط کے سبب کئی خاندانوں کو درخواستوں کی قبولیت کے سلسلہ میں دشواری کا سامنا تھا۔ حکومت سے نمائندگی پر آدھار کارڈ کی شرط سے مستثنیٰ قرار دینے کا اعلان کیا گیا۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں باقاعدہ طورپر احکامات جاری نہیں کئے گئے جس کے باعث می سیوا مراکز اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر دفاتر میں درخواستیں قبول نہیں کی جارہی ہیں ۔ اسی دوران ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جناب جلال الدین اکبر نے بتایا کہ آدھار کارڈ کے لزوم کو ختم کرتے ہوئے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایات جاری کی گئیں۔ اگر کوئی عہدیدار آدھار کارڈ کی پیشکشی کیلئے اصرار کریں تو اس سلسلہ میں ان سے شکایت کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آدھار کارڈ نہ ہونے کی صورت میں امیدوار آدھار کارڈ کا انرولمنٹ نمبر داخل کرسکتے ہیں جو قابل قبول ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اس اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ غریب خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ جناب جلال الدین اکبر کے مطابق اس اسکیم کے تحت 10 اضلاع میں جملہ 810 درخواستیں وصول ہوئیں جن میں سے 166 درخواستوں کو منظوری دی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اجتماعی شادیوں کی اسکیم کے تحت موجود 1.2 کروڑ کے بجٹ سے شادی مبارک اسکیم کی منظورہ درخواستوں کیلئے رقم جاری کی جارہی ہے۔ فی خاندان 51 ہزار روپئے راست طور پر بینک اکاؤنٹ میں منتقل کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے جاریہ سال بجٹ میں اس اسکیم کیلئے 100 کروڑ روپئے مختص کئے لیکن ابھی تک یہ بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ جاریہ سال حکومت 20 ہزار خاندانوں کو امداد فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن درخواستوں کی وصولی اور منظوری کی رفتار کو دیکھتے ہوئے نشانہ کی تکمیل مشکل دکھائی دیتی ہے۔ دارالحکومت حیدرآباد میں ابھی تک جملہ 153 درخواستیں وصول ہوئی ہیں جن میں 60 درخواستوں کو منظوری دی گئی جبکہ 30 درخواست گزاروں کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ یہ اسکیم مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتی طبقات کیلئے بھی ہے لیکن عیسائی ، سکھ ، جین اور پارسی طبقات کی جانب سے درخواستیں داخل نہیں کی گئیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ اسکیم کے بارے میں مناسب تشہیر کی کمی کے باعث نشانہ کی تکمیل میں دشواری ہوگی۔ مسلم اقلیت میں لاکھوں غریب خاندانوں کی موجودگی کے باوجود دو ماہ میں صرف 810 درخواستوں کی وصولی اسکیم سے عدم واقفیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفس میں درخواست داخل کرنے کیلئے آئے ہوئے افراد نے بتایا کہ سخت شرائط کے سبب امداد کا حصول مشکل ہوچکا ہے۔ تاہم ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے بتایا کہ ایم آر اوز اور آر ڈی اوز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ وقت میں درخواستوں کی جانچ مکمل کرلیں تاکہ منظورہ درخواستوں کیلئے رقم فوری طور پر جاری کی جاسکے۔