شادی تقریب : دسترخوان پر ٹوٹ پڑنے کی مکروہ حرکتیں

حیدرآباد ۔ 11 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : نکاح کی تقریب میں تاخیر بڑے جھگڑوں میں بدلنے لگی ہے ۔ اب تک عوام میں اس بات کی شکایات عام تھیں کہ تقاریب میں کھانے میں تاخیر کے سبب شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اس لیے اس تاخیر کے خاتمہ کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں لیکن اقدامات تو شائد نہیں ہوئے مگر یہ تاخیر جھگڑوں کا سبب بننے لگی ہے ۔ گذشتہ دنوں راجندر نگر کے قریب واقع ایک نکاح تقریب میں کھانے میں تاخیر بڑے جھگڑے کا باعث بن گئی اور لوگ افراتفری کے عالم میں دوڑنے لگے ۔ اسی طرح کی صورتحال گذشتہ ماہ کے اواخر میں مہدی پٹنم کے شادی خانہ میں پیش آئی اس طرح کے حالات کے سدباب کے لیے یہ ضروری ہے کہ عوام میں شعور اجاگر ہو لیکن کیا یہ نوجوانوں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ان حالات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بزرگوں اور ضعیف حضرات کا خیال کریں ؟ اگر وہ نہیں کررہے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ کیا ہے ؟ اس کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔ اخبارات و تنظیموں کی جانب سے بارہا نکاح تقاریب کو آسان بنانے اور ان تقاریب کو سنت کے مطابق انجام دینے کی اپیلیں کی جارہی ہیں اور اس کے عوام پر مثبت اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں لیکن اس کے باوجود اس طرح کے واقعات کی بنیادی وجہ اخلاقیات کا فقدان تصور کی جارہی ہے ۔ نوجوانوں کی جانب سے بزرگوں و ضعیف حضرات کا خیال نہ کیا جانا اور ان سے بے تکلفی معمول بنتا جارہا ہے جو کہ آئندہ نسلوں کے لیے بیحد نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔

راجندر نگر کے قریب واقع شادی خانہ میں جو جھگڑا ہوا اسے معمولی قرار دیتے ہوئے آپسی افہام و تفہیم کے ذریعہ مسئلہ کو تو حل کرلیا گیا لیکن اس جھگڑے نے ایک ایسے مسئلہ کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے جو کہ عمومی طور پر تذکروں میں رہتاہے لیکن اسے سنگین تصور نہیں کیا جاتا تھا ۔ مگر اب یہ مسئلہ انتہائی سنگین ہونے لگا ہے ۔ بزرگوں کی عزت و احترام بنیادی تعلیمات میں شامل ہے لیکن فی زمانہ نوجوان اپنے جوش میں ہوش کھوتے ہوئے اپنے والدین کی عمر سے تجاوز کرنے والے بزرگوں سے الجھنے اور ان پر ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہیں کررہے ہیں ۔ تفصیلات کے بموجب اس نکاح تقریب میں ایک نوجوان نے کھانے کی میز پر قبضہ جمائے اپنے دوستوں کا منتظر تھا لیکن اسی دوران ایک ضعیف العمر شخص پہنچے اور انہوں نے اس میزپر بیٹھنے کی کوشش کی جس پر نوجوان ناراض ہوگیا تو بزرگ نے بیماریوں کا عذر پیش کرنے کی کوشش کی لیکن اس پر بھی نوجوان نے کرسی دینے سے انکار کردیا اور ضعیف العمر شخص کی حمایت میں ایک اور نوجوان اس نوجوانوں کے گروپ سے الجھ پڑا اور مسئلہ گرما گرم جھگڑے تک پہنچ گیا ۔ عینی شاہدین کے بموجب داعیان نے معاملہ کو رفع دفع کردیا لیکن محفل میں موجود بزرگ نوجوانوں کی اس حرکت سے کافی برہم نظر آرہے تھے ۔ نوجوانوں میں فروغ پا رہے

اخلاقی فقدان کو روکنے اور اس کے خاتمہ کے لیے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی اصلاح اور ان کے صبر کے مادہ میں اضافہ کرنے کے لیے انہیں دین سے قریب کرنے میں عجلت کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر اب بھی اس صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات کرنے میں کوتاہی برتی جاتی ہے تو ایسی صورت میں اس طرح کے مزید واقعات رونما ہوسکتے ہیں جو کہ انتہائی معیوب بات ہے ۔ عموما نوجوانوں کو بزرگوں پر بے تکے جملے کستے ہوئے سنا جاتا ہے لیکن بزرگ حضرات خاموشی اختیار کرلیتے ہیں شائد نوجوان یہ فراموش کرتے جارہے ہیں کہ عمر کے اس حصہ میں انہیں بھی پہنچنا ہے اور کوئی اس وقت انہیں اس طرح کے جملے کستے ہوئے ستائے تو ان کے دلوں پر کیا گزرے گی ؟ نوجوانوں کے اخلاقیات میں بہتری پیدا کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان میں شعور بیدار کرتے ہوئے احساس اجاگر کیا جائے ۔۔