شادیوں میں بیجا رسومات و اسراف کے خلاف مہم کی تائید

انجمن نائبین قضاۃ قلعہ محمد نگر کے وفد کی ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات

حیدرآباد۔ /6مارچ، ( سیاست نیوز) انجمن نائبین قضاۃ قلعہ محمد نگر کے ایک وفد نے قاضی محمد عابد حسین صدر انجمن کی قیادت میں آج ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی اور شادیوں میں اسراف کے خلاف مہم کی تائید کی۔ نائب قاضیوں کے وفد نے اس مہم میں مکمل تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ وہ نکاح کے موقع پر نہ صرف فریقین کو اس سلسلہ میں تلقین کریں گے بلکہ عوام میں شعور بیدار کرنے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرینگے۔ قاضی محمد عابد حسین کے علاوہ وفد میں نائب صدر قاضی حافظ نور محمد، معتمد عمومی قاضی محمد شفیع الرحمن، معتمد قاضی محمد عبدالرحمن صبور کے علاوہ قاضی محمد علیم الدین، قاضی خواجہ بشیر احمد، قاضی حافظ ناہید علی اور قاضی محمد عبدالمتین شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ شادیوں میں اسراف کے خاتمہ کے ذریعہ مسلمانوں کے اہم مسئلہ کی یکسوئی کی جاسکتی ہے۔ شادیوں کے موقع پر لڑکی والوں پر غیر معمولی بوجھ عائد کرنا مناسب نہیں لہذا وہ بھی شادیوں کے موقع پر ایک کھانا اور ایک میٹھا کی مہم کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادیوں میں وقت کی پابندی و بیجا رسومات، آتشبازی اور بیانڈ باجہ جیسی لعنتوں کے خلاف شعور بیداری کی ضرورت ہے۔ وفد نے بعض نائب قاضیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے نظام قضاۃ اور قاضیوں کی بدنامی ہورہی ہے۔ نائب قاضیوں کی انجمن نے اس کی روک تھام کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات کی سفارش کی اور کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ وہ قاضیوں اور نائبین کو جوابدہ بنانے رہنمایانہ خطوط طئے کرے۔ جو بھی قاضی یا ان کے نائب اس طرح کی غیر شرعی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نظام قضاۃ کو مستحکم کرنے حکومت کو اقدامات کرنے چاہیئے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ تمام نائب قاضیوں کو اپنے علاقے کے صدر قاضی کے تحت کیا جائے اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر قاضی کے تحت موجود نائبین اور قاری النکاح کی تفصیلات حکومت کے پاس ہونی چاہیئے تاکہ کسی غلطی کی صورت میں خاطی کی نشاندہی اور اس کے خلاف کارروائی میں آسانی ہو۔ انہوں نے وقف بورڈ کے دارالقضاۃ میں ریکارڈ کے تحفظ کیلئے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ نائب قاضیوں نے کہا کہ دارالقضاۃ میں ریکارڈ کی حفاظت ضروری ہے جس طرح قاضی حضرات تقریباً 100سال سے زائد کا ریکارڈ محفوظ کئے ہوئے ہیں۔