ممبئی ۔ 18 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ایک سابق نرس ارونا شان بھاگ جو کہ کنگ ایڈورڈ میموریل ( کے ای ایم ) ہاسپٹل ، ممبئی میں بہیمانہ عصمت ریزی کے بعد گذشتہ 42 سال سے حالت بے ہوشی ( کوما ) میں تھی اور ہندوستان بھر میں ان کے چرچے تھے ۔ آج ان کی بالاخر موت واقع ہوگئی ۔ 66 سالہ ارونا جو کہ ہاسپٹل میں شریک دنیا کی طویل ترین مریضہ تھی ۔ گذشتہ ہفتہ نمونیا سے متاثر ہونے کے بعد ہاسپٹل کے ICU میں مصنوعی اعضائے تنفس پر رکھا گیا تھا ارونا KEM ہاسپٹل میں بحیثیت نرس برسر خدمت تھی 27 نومبر 1973 کو ایک وارڈ بائے موہن لال بھرتا والمیکی نے انہیں زنجیروں سے باندھ کر عصمت ریزی کی تھی ۔ بعد ازاں ان کے دماغ آکسیجن فراہم کرنے والے پائپ کو بھی کاٹ دیا ۔ اس وقت سے وہ کوما میں چلے گئی تھیں ۔ اگرچیکہ موہن لال کو حملہ اور سرقہ کے الزام میں 7 سال کی سزائے قید ہوئی تھی لیکن اسے عصمت ریزی اور نہ ہی جنسی زیادتی کا مجرم قرار نہیں دیا گیا ۔ جنسی حملہ کے واقعہ کے 38 سال بعد سپریم کورٹ نے 28 جنوری 2011 کو ایک جرنلسٹ پنکی ویرانی کی درخواست رحم پر کارروائی کرتے ہوئے ایک میڈیکل ٹیم تشکیل دی تاکہ ارونا کے صحت کی جانچ کی جائے ۔ ویرانی دراصل ارونا کو زہریلے انجکشن کے ذریعہ موت کی نیند سلانے کے لیے سپریم کورٹ سے اجازت طلب کی تھی ۔