نئی دہلی 11 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک اہم گرفتاری میں لشکرطیبہ کے ایک کارکن کو جو مبینہ طور پر ممنوعہ انڈین مجاہدین کیلئے کام کر رہا تھا اور ملک میں کئی مقامات پر ہوئے بم دھماکوں میں ملوث تھا دہلی پولیس کی خصوصی سیل نے اتر پردیش کے ضلع بہرائچ سے گرفتار کرلیا ۔ پولیس نے کہا کہ 49 سالہ عرفان احمد عرف پپو گذشتہ 15 سال سے مفرور تھا ۔ اس کو ہندوستانی نوجوانوں کو بھرتی کرکے انہیں تربیت کیلئے پاکستان روانہ کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی ۔ پولیس کے بموجب اس مبینہ دہشت گرد کو ہند ۔ نیپال سرحد کے قریب بہرائچ سے گرفتار کیا گیا ۔ دہلی پولیس کے ایک یسنئر عہدیدار نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کا انتقام لینے کیلئے عرفان نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کانپور ‘ حیدرآباد ‘ اندر گڑھ ( راجستھان ) سورت ‘ لکھنو اور گلبرگہ میں دھماکے کئے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ اسے سی بی آئی نے 1994 میں ایک اور ساتھی جلیس انصاری کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا ۔ جلیس پر بھی کئی ٹرینوں میں بم دھماکے کرنے کا الزام ہے ۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ عرفان نے انڈین ماہدین کیلئے بھی کام کیا تھا ۔ عہدیدار کے بموجب عرفان کو 1999 میں خصوصی سیل کے درج کردہ مقدمہ میں سزا سنائی گئی تھی لیکن سی بی آئی کی جانب سے درج مقدمہ زیر التوا تھا ۔ 2001 میں عرفان کو اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کیلئے پیرول منظور کی گئی تھی لیکن وہ فرار ہوگیا تھا اور اس وقت سے مطلوب تھا ۔ کہا گیا ہے کہ عرفان فرضی دستاویزات کے ذریعہ نیپالی شہریت حاصل کرنے کے جرم میں پانچ سال سے نیپال کی جیل میں قید تھا تاہم وہاں زلزلہ کے بعد وہ فرار ہوگیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ 1996 سے 1999 کے دوران جب اسے تہاڑ جیل میں قید رکھا گیا تھا اس وقت وہ ٹاڈا کیس میں سزا پانے والے آصف رضا خان کے ساتھ تعلقات پیدا کرلئے تھے ۔ یہی دوستی بعد میں عرفان احمد عرف پپو کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کی ابتداء ثابت ہوئی تھی ۔