نئی دہلی۔ 24 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پیشرو یو پی اے حکومت اور بالخصوص سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو آج اس وقت پشیمانی ہوئی جب سابق سی اے جی ونود رائے نے دعویٰ کیا کہ مخلوط حکومت میں شامل کارندوں نے سیاست دانوں کو متعین کیا تھا تاکہ کولگیٹ اور کامن ویلتھ گیمس اسکام میں آڈٹ شدہ رپورٹس سے اُن کے نام حذف کئے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یو پی اے کارندوں نے ان کے آئی اے ایس ساتھیوں کو بھی اس کام میں گھسیٹنے کی کوشش کی۔ اُن تمام نے اسکامس میں جن سیاست دانوں کا نام درج تھا، اسے حذف کرنے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کردی تھیں۔ واضح رہے کہ یو پی اے حکومت کو اس سے قبل سابق وزیراعظم کے میڈیا مشیر سنجے بارو، سابق وزیر اُمور خارجہ کے نٹور سنگھ اور سابق کوئلہ سیکریٹری پی سی پارکھ کے انکشافات کی وجہ سے کافی پریشان کن حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ونود رائے نے یہ انکشافات عنقریب منظر عام پر آنے والی اپنی کتاب "Not Just an Accountant” میں کئے ہیں۔
یہ کتاب ماہِ اکتوبر میں بازار میں دستیاب رہے گی اور اس میں یو پی اے دورِ حکومت کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ونود رائے کو گزشتہ سال یو پی اے حکومت میں کئی بے قاعدگیوں کی بناء عہدہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انہوں نے سی اے جی رپورٹس میں یہ انکشاف کیا تھا کہ 2G اسپیکٹرم تخصیص میں سرکاری خزانہ کو1.76 لاکھ کروڑ روپئے اور کوئلہ تخصیص میں 1.86 لاکھ کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ تمام تفصیلات کا انکشاف کریں گے کہ کس طرح غلط فیصلے کئے گئے اور اس کے نتیجہ میں سرکاری خزانہ کو بھاری نقصانات ہوئے۔ ونود رائے نے کہا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں اِن تمام تفصیلات کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ وزیراعظم بھی مساوی طور پر ذمہ دار ہیں، کیونکہ جو بھی فیصلہ کیا جاتا ہے، آخر کار اسے قطعیت دینے والے وزیراعظم ہی ہوتے ہیں۔ بسااوقات انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ محض اقتدار پر رہنے کے لئے ہر چیز کی قربانی نہیں دی جاسکتی۔ مخلوط سیاست کی پیچیدگیوں کے نام پر حکمرانی کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے اپنی کتاب میں اسی بات کا ذکر کیا ہے۔ ونود رائے نے آج اپنی رہائش گاہ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ملاقات سے انکار کردیا اور ان اطلاعات پر تبصرہ سے بھی گریز کیا۔ ونود رائے کے قریبی ذرائع کے مطابق کتاب میں ہر ہر لفظ سچائی اور حقیقت پر مبنی ہے۔ اس کا مقصد کسی کا وقار مجروح کرنا نہیں بلکہ حکمرانی میں بہتری لانا اور مستقبل میں نظام حکمرانی کو بہتر بنانا ہے۔ اس کتاب میں انتہائی سادہ زبان استعمال کی گئی ہے تاکہ ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے بشمول طلبہ بہ آسانی سمجھ سکیں۔ جب یہ پوچھا گیا کہ ونود رائے نے یہ تبصرہ پہلے کیوں نہیں کیا اور اب وہ ایسا کیوں کررہے ہیں ، تو ذرائع نے بتایا کہ اس وقت وہ دستوری عہدہ پر فائز تھے اور ایسے کسی تبصرہ سے اس ادارہ کا وقار مجروح ہوتا جس کی وہ قیادت کررہے تھے۔ ذرائع کے مطابق اب وہ پوری طرح آزاد ہیں اور اس کتاب میں انہوں نے ہر شخص کا ذکر کیا ہے اور ان تمام کے نام بھی شامل ہیں، جنہوں نے ادارہ اور سی اے جی کی آڈٹ پر نکتہ چینی کی تھی۔