سی پی ای سی پراجکٹ نے پاکستان کی معیشت کو کمزور نہیں کیا : چین

بیجنگ 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) چین نے آج اُن تنقیدوں پر شدید برہمی کا اظہار کیاکہ 60 بلین ڈالرس کی مالیت والے سی پی ای سی پراجکٹ نے پاکستان کی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ چین نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت پاکستان میں جو بھی پراجکٹس زیرتکمیل ہیں اُن میں 20 فیصد سے بھی کم پراجکٹس میں چین کے قرض کی رقم استعمال ہورہی ہے۔ چائنا ۔ پاکستان اکنامک کاریڈور (CPEC) جو بلوچستان کی گوادر بندرگاہ کو چین کے صوبہ ژنجیانگ سے جوڑتا ہے، دراصل صدر چین ژی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو کا فلیگ شپ پراجکٹ ہے۔ ہندوستان نے بھی اس پراجکٹ پر یہ کہہ کر چین سے احتجاج کیا تھا کہ مذکورہ پراجکٹ پاکستان مقبوضہ کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے۔ دریں اثناء چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لوکانگ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ سی پی ای سی دراصل چین اور پاکستان کے درمیان باہمی تعاون کی علامت ہے۔ چین، پاکستان کو اپنے ’’ہر موسم‘‘ کا دوست تصور کرتا ہے۔ علاوہ ازیں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو (BRI) کا ایک پائلٹ (اہم ترین) پروگرام ہے۔ پاکستان میں چین کی خطیر رقومات مشغول کئے جانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے لوکانگ نے کہاکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بین الاقوامی فنڈس کے ذریعہ بڑے بڑے پراجکٹس کی تکمیل عالمی سطح پر ہر ملک میں کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں اس عمل کے ذریعہ ترقی پذیر ممالک کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ بھی ملک کی ترقی کی راہ میں پالئی جانے والی رکاوٹوں پر قابو پالیتے ہیں۔ اُنھوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہاکہ موجودہ سی پی ای سی پراجکٹس میں چین کے قرضوں کے 20% فنڈس ہی استعمال کئے جارہے ہیں لہذا یہ سوچنا غلط ہے کہ ان پراجکٹس سے پاکستان کی معیشت پر زائد بوجھ عائد ہورہا ہے جبکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ اِن پراجکٹس سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہورہی ہے۔