کمیونسٹ کارکن بھی مقابلہ کیلئے دفتر کے باہر نکل گئے ‘ پولیس سے دھکم پیل‘ 600 گرفتار
نئی دہلی ۔22مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی ورکروں نے کیرالا میں بائیں بازو محاذ کی انتخابی کامیابی کے جشن کے دوران اس کے حامیوں کے ہاتھوں اپنے ( بی جے پی کے ) ایک کارکن کے مبینہ قتل کے خلاف نئی دہلی میں آج سی پی آئی ( ایم) کے ہیڈ کوارٹرز پر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اس موقع پر پولیس کے محاصرہ کو توڑتے ہوئے بی جے پی کے برہم کارکنوں نے سی پی آئی ( ایم) کے سائن بورڈ کو بھی نقصان پہنچایا ۔ کیرالا میں انتخابات کے دوران بی جے پی نے اپنے کارکنوں پر مبینہ حملوں کے خلاف سی پی آئی ( ایم) کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بنایا ہے ۔ دہلی کے گول مارکٹ علاقہ میں واقع سی پی آئی( ایم) کے صدر دفتر کی حفاظت کیلئے پولیس کی طرف سے سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کئے تھے ۔ بی جے پی کارکنوں کے مظاہرہ کے دوران سی پی آئی ( ایم) کے کارکن بھی ان سے مقابلہ کیلئے دفتر سے باہر نکل آئے جس کے نتیجہ میں بی جے پی اور سی پی آئی ( ایم) کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی ۔ علاوہ ازیں حفاظتی محاصرہ توڑنجے کی کوشش کے دوران بی جے پی کارکنوں اور پولیس میں دھکم پیل ہوئی ۔ بی جے پی کارکنوں نے سی پی آئی ( ایم) کے دفتر پر لگے ہوئے سائن بورڈس کو بھی نقصان پہنچایا ۔ اس دوران پولیس نے ایک دوسرے سے متصادم کمیونسٹ اور بی جے پی کارکنوں کو علحدہ کیا تاہم تصادم میں کوئی زخمی نہیں ہوا ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ( نئی دہلی ) جتن نروالی نے کہا کہ ’’ مختلف قانونی دفعات کے تحت 600کارکنوں کو تحویل میں لیا گیا اور صورتحال قابو میں ہے ‘‘ ۔ بی جے پی یونٹ کے ترجمان پراوین کمار نے دعویٰ کیا کہ کارکنوں کا احتجاج پُرامن تھا ۔ ’’ پولیس نے ہمارے قائدین اور کارکنوں کو حراست میں لیا لیکن تشدد پر آمادہ سی پی آئی ( ایم) کارکنوں کو حراست میں نہیں لیا گیا ۔ دہلی بی جے پی یونٹ کے انچارج شیام جاجو اور صدرنشین اپادھیائے کو بھی حراست میں لیا گیا ‘‘ ۔