دونوں پارٹیوں کے قائدین کا اجلاس
مہا کوٹمی سے علحدگی کیلئے سی پی آئی کی دھمکی
حیدرآباد ۔ 7 ۔ نومبر (سیاست نیوز) مہا کوٹمی میں نشستوںکی تقسیم سے ناراض سی پی آئی اور تلنگانہ جنا سمیتی کے قائدین کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کانگریس کے موقف کا جائزہ لیا گیا ۔ اگرچہ اس ملاقات کو خیرسگالی ملاقات قرار دیا گیا لیکن اطلاعات کے مطابق کودنڈا رام نے سی پی آئی قائدین سے کانگریس کے رویہ کی شکایت کی ۔ ملاقات میں سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی ، قومی سکریٹری ڈاکٹر نارائنا اور ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی موجود تھے۔ سی پی آئی کے دفتر میں اس ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ملاقات کے دوران سیاسی امور پر گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشستوںکے بارے میں کانگریس پارٹی کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ انہوں نے ملاقات کی تفصیلات کے انکشاف سے انکار کردیا ۔ اسی دوران سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے واضح کیا کہ اگر سی پی آئی کو اہم نشستیں الاٹ نہیں کی گئیں تو وہ مہا کوٹمی میں برقراری پر از سر نو غور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے 9 نشستوں کی تجویز پیش کی۔ تاہم بعد میں 5 نشستوں سے اتفاق کیا گیا ۔ اگر سی پی آئی کو 4 نشستیں الاٹ کی گئیں تو مہا کوٹمی میں برقراری مشکل ہوگی۔انہوں نے کہا کہ دو دن بعد سی پی آئی کے ریاستی عاملہ کے اجلاس میں اس مسئلہ پر قطعی فیصلہ کیا جائے گا ۔ وینکٹ ریڈی نے کانگریس کے رویہ پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کتہ گوڑم اسمبلی نشست پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کانگریس کی جانب سے میڈیا کو دی جانے والی ان اطلاعات پر تنقید کی کہ سی پی آئی کو صرف 4 نشستیں الاٹ کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن نشستوں پر عام آدمی کا اظہار اور دوسرے دن انکار کو سی پی آئی اپنی توہین تصور کرتی ہے۔ کانگریس پارٹی کیا کہنا چاہتی ہے، وہ ہمیں سمجھ سے باہر ہے۔ اسی دوران سی پی آئی کی جانب سے مطالبہ کردہ بیلم پلی کی نشست پر پارٹی میں داخلی رسہ کشی کا آغاز ہوچکا ہے۔ سابق رکن اسمبلی جی ملیش کی امیدواری کے خلاف ضلع کمیٹی نے قرارداد منظورکی ہے۔ ملیش نے اس حلقہ سے 8 مرتبہ مقابلہ کیا ، لہذا اس مرتبہ کسی اور کو موقع دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔