سیٹ ون اور مایناریٹی فینانس کارپوریشن کے درمیان یادداشت مفاہمت مسدود

حیدرآباد 6 جنوری (سیاست نیوز ) حکومت نے اقلیتی فینانس کارپوریشن اور سیٹ ون کے درمیان اقلیتی نوجوانوں کو روزگار پر مبنی ٹریننگ پروگرام کے آغاز سے متعلق امکانی معاہدہ پر روک لگادی ہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے تفصیلات طلب کرنے کے بعد معاہدہ پر روک لگانے کا حکم دیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے اقلیتی فینانس کارپوریشن کو الاٹ کردہ ٹریننگ اینڈ ایمپلائمنٹ اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں فینانس کارپوریشن نے سیٹ ون کے اشتراک سے پروگرام مرتب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلہ میں 12 ڈسمبر کو منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن اور دیگر عہدیداروں نے سیٹ ون کا دورہ کیا اور وہاں جاری مختلف ٹریننگ پروگرامس کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں بعد میں دونوں اداروں نے یادداشت مفاہمت سے اتفاق کیا اور اس کی تفصیلات طئے کرنے کیلئے صدر نشین سیٹ ون نے فینانس کارپوریشن کے عہدیداروں کے ساتھ علحدہ اجلاس منعقد کیا ۔

اقلیتی فینانس کارپوریشن نے 18 اضلاع میں اس اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں سیٹ ون کو تفصیلات داخل کرنے کی خواہش کی اور ان اضلاع میں شعور بیداری کی اسکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ منیجنگ ڈائرکٹر سیٹ ون کی جانب سے منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کو روانہ کردہ مکتوب میں 6 کروڑ 50 لاکھ 47 ہزار کے قرض سے اقلیتی طلبہ کو مختلف کورسس میں ٹریننگ کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ فینانس کارپوریشن سے درخواست کی گئی کہ وہ 12 ہزار امیدواروں کا انتخاب کرتے ہوئے سیٹ ون سے رجوع کریں۔ مکتوب میں اسکیمات کے بارے میں شعور بیداری اور پبلیسٹی کے سلسلہ میں ایک کروڑ 62 لاکھ 61 ہزار 750 روپئے کی اجرائی کی درخواست کی گئی۔ اس امکانی معاہدہ کے سلسلہ میں حکومت کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی تاہم اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود نے دیگر ذرائع سے اس بارے میں شکایات ملنے پر اقلیتی فینانس کارپوریشن سے تفصیلات طلب کی۔ بتایا جاتا ہے کہ سیٹ ون کی تمام اسکیمات اور امکانی معاہدہ کی تفصیلات کا جائزہ لینے کے بعد اعلی عہدیدار اس نتیجہ پر پہنچے کہ سیٹ ون کی بیشتر اسکیمات قدیم ہوچکی ہیں اور ان کی ٹریننگ سے روزگار کے حصول کے امکانات کم ہیں ۔ لہذا سیٹ ون اور میڈون ہاسپٹل کے ساتھ کئے جانے والے معاہدہ پر روک لگانے کی ہدایت دی گئی۔

اس طرح ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم پر عمل آوری کا معاملہ راست حکومت کے تحت ہے اور اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود چاہتے ہیں کہ ایسے اداروں سے مفاہمت کی جائے جن کے کورسیس روزگار پر مبنی اور اقلیتوں کے معاشی موقف کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوسکے ۔