نئی دہلی۔ 8 فروری (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج واضح کردیا کہ ہند ۔ امریکی سیول نیوکلیئر سمجھوتہ سے متعلق ہندوستان کے قانون واجبات میںکوئی ترمیم نہیں کی جاسکتی کیونکہ حال ہی میں امریکہ کے ساتھ طئے شدہ اتفاق رائے کے بعد اس کی اجرائی عمل میں آئی ہے جس کے تحت کسی حادثہ کی صورت میں متاثرین کی طرف سے نیوکلیئر ری ایکٹرس کیلئے استعمال ہونے والے آلات کے سربراہ کنندگان کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا۔ کسی نیوکلیئر حادثہ کی صورت میں معاوضہ اور واجبات کے بشمول اس سمجھوتہ سے متعلق مختلف حساس و نازک مسائل پر اکثر پوچھے جانے والے سوالات پر ایک تفصیلی مکتوب میں وزارت اُمور خارجہ نے کہا کہ ’’نیوکلیئر نقصانات سے متعلق سے شہری واجبات قانون یا قواعد میں ترمیم کی کوئی تجویز نہیں ہے‘‘۔ وزارت اُمور خارجہ نے مزید کہا کہ کسی نیوکلیئر حادثہ کی صورت میں نقصانات کی پابجائی کے لئے ہندوستانی نیوکلیئر ری ایکٹرس کو آلات سربراہ کرنے والے بیرونی اداروں کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا بلکہ ری ایکٹرس چلانے والوں پر واجبات عائد ہوں گے جن کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ آپریٹرس اور سپلائرس کے مابین کنٹراکٹ کے ذریعہ ان ری ایکٹرس کو چلائیں۔ یہ وضاحت بھی کی گئی ہے ۔ ہند۔ امریکہ نیوکلیئر رابطہ گروپ کے درمیان تین مرحلوں کے مذاکرات کے ذریعہ پالیسی ساز اُمور پر حائل رکاوٹوں کو دُور کیا گیا۔
امریکہ کے صدر بارک اوباما کے حالیہ دورۂ ہند سے صرف تین دن قبل لندن میں منعقدہ آخری مرحلے کی بات چیت میں تمام رکاوٹوں کو ختم کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ان مذاکرات کی بنیاد پر سیول نیوکلیئر تعاون سے متعلق دو انتہائی حساس و نازک مسائل پر امریکہ کے ساتھ مفاہمت طئے پائی گئی جس کی قائدین (وزیراعظم نریندر مودی اور صدر اوباما) کی طرف سے 25 جنوری کو توثیق کی گئی‘‘۔ وزارت اُمور خارجہ نے ادعا کیا کہ نیوکلیئر نقصانات کیلئے ملک کے قانون شہری واجبات کے تحت اس (نقصانات) کی تمام تر قانونی ذمہ داری آپریٹرس پر عائد کی ہے۔ ہندوستان نے اس ضمن میں امریکہ کو تیقن دیتے ہوئے جمعہ کو ایک یادداشت پیش کی۔اس دوران وزارت اُمور خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے ان تجاویز کو بھی مسترد کردیا کہ نیوکلیئر مواد کا پتہ چلانے کیلئے امریکہ کو باہمی تحفظ سے متعلق کوئی گنجائش فراہم نہیں کی گئی ہے۔ سید اکبرالدین نے کہا کہ ’’کوئی باہمی تحفظ نہیں رہے گا۔ ہمارا انداز فکر ہمارے عمل کی عام روایات اور ہماری بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہوگا‘‘۔