…… سرینگر سیلاب ……
سرینگر۔/18ستمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر کے سیول سکریٹریٹ کو گیارہ دنوں کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا لیکن وہاں سے اب بھی کام کاج نہیں کیا جاسکتا کیونکہ سات منزلہ اس عمارت کی ذیلی منزل اب بھی تین فیٹ پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ جیسا کہ قارئین جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر آئے بدترین سیلاب کے بعد وہاں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ سیول سکریٹریٹ کی عمارت میں واقع مختلف دفاتر میں 4008 ملازمین برسر کار ہیں، لیکن ان میں سے صرف 10فیصد ملازمین ہی دفتر حاضر ہوسکے اور انہیں صبح ٹھیک 9:30 بجے جب سکریٹریٹ کا باب الداخلہ کھولا جاتا ہے، وہاں موجود پایا گیا۔ باب الداخلہ پر موجود سیکوریٹی عہدیداروں نے حاضری دینے والے تمام ملازمین کے نام حاضری رجسٹر میں درج کرلئے( ان کی حاضری پڑ گئی ) اور انہیں گھر جانے کی ہدایت کی۔ سکریٹریٹ میں سب سے پہلے وزیر جنگلات میا ں الطاف احمد صبح 11بجے پہنچے۔ ان کے بعد وزیر مالیات عبدالرحیم واتھر 11:30 بجے اور 11:30 بجے وزیر سیاحت غلام احمد میر سکریٹریٹ پہنچے
لیکن ان کے ساتھ بھی وہی ہوا جو ملازمین کے ساتھ ہوا، یعنی زمینی منزل کے زیر آب ہونے سے وزراء بھی اپنے دفاتر میں داخل نہیں ہوسکے۔ وزراء اس کے بعد ریاستی لیجسلیٹو اسمبلی کامپلکس میں داخل ہوگئے جہاں سے پانی کی نکاسی کی جاچکی ہے اور وہیں انہوں نے قیام کیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ریاستی حکومت نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ سیول سکریٹریٹ میں 18ستمبر سے سرکاری کام کاج کا آغاز ہوجائے گا اور ملازمین کو ہدایت کی گئی تھی کہ 18ستمبر کو دفتر پہنچ جائیں۔ تاہم ملازمین نے جب صورتحال دیکھی تو انہوں نے حکومت کے عجلت میں کئے گئے فیصلے کوہدف تنقید بنایا۔ دریں اثناء بلقیس نامی ایک ملازمہ نے کہا کہ حکومت آخر ملازمین سے کام پر رجوع ہونے کی توقع کیونکر کرسکتی ہے۔ زمینی منزل میں اب بھی تین فیٹ پانی موجود ہے۔ ملازمین کو اپنے دفتر میں داخل ہونے کے لئے حکومت کو کم از کم کشتیوں کا انتظام کرنا چاہیئے تھا۔