سیمی کے 5 کارکن دہشت گردانہ حملوں کیلئے کوشاں

انٹلی جنس کا ادعا ۔ ملک بھر میں چوکسی ۔ کرناٹک ‘ مہاراشٹرا و راجستھان میں موجودگی کا شبہ

نئی دہلی 8 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سارے ملک میں سخت چوکسی اختیار کرلی گئی ہے اور یہ ادعا کیا گیا ہے کہ ممنوعہ تنظیم سیمی کے پانچ ارکان ‘ جو 2013 میں مدھیہ پردیش کی ایک جیل سے فرار ہوگئے تھے ‘ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی ہدایت پر ملک میں دہشت گردانہ حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ سنٹرل انٹلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات پر تمام ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ محمد اعجاز الدین ‘ محمد اسلم ‘ امجد خان ‘ ذاکر حسین صادق اور محبوب گڈو کی تلاش کریں جنہیں دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ کرناٹک ‘ راجستھان اور مہاراشٹرا سے خاص طور پر چوکس رہنے کو کہا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دہشت گرد ان تین ریاستوں میں چھپے ہوسکتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے ایک عہدیدار کی کسی شخص سے بات چیت میں یہ جملہ پکڑا گیا کہ ’’ ان لوگوں کو اچھا پراجیکٹ دیا ہے ۔ کچھ دن انتظار کرو ‘‘ ۔ یہ ادعا کیا گیا ہے کہ آخری مرتبہ ان میں سے دو افراد کی کرناٹک میں موجودگی کی اطلاع ہے ۔ یکم اکٹوبر 2013 کو پانچ افراد فیصل نامی ایک اور قیدی کے ساتھ مدھیہ پردیش میں کھنڈوا کی جیل سے فرار ہوگئے تھے ۔ انہوں نے 14 فیٹ اونچی دیوار پھلانگ کر فرار اختیار کی تھی ۔ فیصل اس گینگ کا سربراہ تھا ۔ ساتویں قیدی نے دوسرے ہی دن خود سپردگی اختیار کرلی تھی جبکہ فیصل کو گذتہ سال ڈسمبر میں مدھیہ پردیش میں بروانی کے مقام سے گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ پانچ دوسرے ہنوز مفرور ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مجبوب کی والدہ نجمہ بی بھی کھنڈوا میں گذشتہ چند ماہ قبل لاپتہ ہوگئی ہے اور سمجھا جارہا ہے کہ وہ بھی اپنے فرزند کے ساتھ روپوش ہے ۔ ان مشتبہ افراد کی تلنگانہ ‘ اتر پردیش ‘ کرناٹک ‘ مہاراشٹرا ‘ راجستھان اور ٹاملناڈو میں موجودگی کی بھی اطلاع تھی ۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ گروپ یکم فبروری 2014 کو تلنگانہ میں کریمنگر میں ایک بینک رہزنی میں بھی ملوث ہے ۔ اس کے علاوہ یہ گروپ بنگلور ۔ گوہاٹی ٹرین میں ہوئے دھماکہ اور چینائی سنٹرل اسٹیشن پر ہوئے دھماکہ میں بھی ملوث ہے ۔ یہ پانچوں جون 2011 سے ایک پولیس ملازم کے قتل کے علاوہ اقدام قتل اور بینک رہزنی کے واقعات میں جیل میں تھے ۔