سیما آندھرا میں کانگریس کو امیدواروں کی تلاش

کئی قائدین تلگودیشم میں شامل، این ٹی آر بھون میں گاندھی بھون کا منظر

حیدرآباد 18 مارچ (پی ٹی آئی) کانگریس جس نے گزشتہ ماہ تک آندھراپردیش میں حکمرانی کی تھی اب سیما آندھرا میں قائدین سے محروم ہوگئی ہے۔ پارٹی کے کئی ارکان پارلیمنٹ، سابق وزراء، ارکان اسمبلی و دیگر قائدین کی کثیر تعداد تلگودیشم میں شامل ہورہی ہے۔ ریاست کی تقسیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کانگریس کے سیما آندھرا قائدین پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ درحقیقت حیدرآباد میں کانگریس مذاق کا موضوع بن گئی ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ این ٹی آر بھون (تلگودیشم پارٹی کا ہیڈکوارٹر) گاندھی بھون کا منظر پیش کررہا ہے۔ آندھرا اور رائلسیما سے تعلق رکھنے والے قائدین کی ناراضگی اور کانگریس کو امیدواروں کا انتخاب ایک مشکل مرحلہ بن گیا ہے۔ سیما آندھرا میں مزید قائدین کانگریس چھوڑ سکتے ہیں۔ اِس پارٹی کے اعلیٰ اور طاقتور قائدین جیسے مرکزی وزیر کے سامبا شیوا راؤ، ایم پی رایا پاٹی سامبا شیوا راؤ، سابق وزراء جے سی دیواکر ریڈی، ڈی ایل رویندر ریڈی اور اِن کی طرح کئی قائدین تلگودیشم کی صف میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ سیما آندھرا میں شہری مقامی بلدیات انتخابات کے لئے کانگریس کو کوئی امیدوار نہیں مل رہا ہے۔

جہاں پر 30 مارچ کو انتخابات مقرر ہیں۔ ساحلی ٹاؤن ایلورو اِس کی شاندار مثال ہے جہاں مقامی میونسپل کارپوریشن میں 50 ڈیویژنوں کے لئے کانگریس کے صرف 9 امیدوار میدان میں ہیں۔ مابقی ڈیویژنس میں کانگریس کی جانب سے کسی امیدوار کو نامزد نہیں کیا گیا۔ رائلسیما علاقہ پر مشتمل 4 اضلاع میں کانگریس کا بالکلیہ نام و نشان نہیں ہے۔ ساحلی آندھرا کے 4 تا 5 اضلاع میں بھی کانگریس کا کوئی لیڈر نظر نہیں آرہا ہے۔ این رگھوویرا ریڈی کے سوا جنھیں آندھراپردیش کانگریس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، ضلع اننت پور میں کوئی قائد نظر نہیں آرہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِس ضلع کے ایس شلیجہ ناتھ کو نوتشکیل شدہ جئے سمکھیا آندھرا پارٹی کا نائب صدر مقرر کیا گیا ہے جسے کرن کمار ریڈی نے قائم کیا ہے۔ کئی قائدین وائی ایس آر کانگریس یا تلگودیشم میں شامل ہورہے ہیں۔ کرنول کے تقریباً کانگریس قائدین تلگودیشم میں شامل ہوگئے ہیں۔ کڑپہ میں کانگریس کے واحد لیڈر ڈی ایل رویندر ریڈی بھی تلگودیشم بھی دیکھے جارہے ہیں اور وہ گزشتہ چند دن سے تلگودیشم کے لئے سرگرم ہیں۔ گنٹور میں بھی یہی حال ہے۔ یہاں پر ٹی ڈی پی کا موقف بہت مضبوط ہوگیا ہے۔ کانگریس کی صفیں خالی نظر آرہی ہیں اور عام انتخابات میں تلگودیشم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے تمام سینئر قائدین متحد ہوگئے ہیں۔