حیدرآباد۔/26فبروری، ( سیاست نیوز) آئندہ عام انتخابات کے مشترکہ ریاست میں انعقاد کے باوجود تلنگانہ اور سیما آندھرا دونوں علاقوں میں کانگریس پارٹی شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ نائب صدر پردیش کانگریس کمیٹی اور رکن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے نئی دہلی میں کانگریس ہائی کمان کے اعلیٰ قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کی تازہ ترین سیاسی صورتحال سے واقف کرایا۔ انہوں نے تلنگانہ اور سیما آندھرا میں کانگریس کے موقف کے بارے میں ہائی کمان کو رپورٹ پیش کی ہے۔ تلنگانہ تشکیل سے متعلق پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کے بعد عوام میں کانگریس کے حق میں لہر دیکھی جارہی ہے اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ٹی آر ایس کانگریس سے انتخابی مفاہمت نہ کرے تب بھی تلنگانہ میں کانگریس برسر اقتدار آئے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تلگودیشم پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس تلنگانہ میں اپنا اثر کھو چکے ہیں اور بی جے پی تلنگانہ بل کی تائید کے باوجود تلنگانہ عوام کی تائید حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 2004ء میں کانگریس پارٹی نے تلنگانہ عوام سے کئے گئے وعدہ کی جس انداز میں تکمیل کی ہے اسے تلنگانہ عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے سیما آندھرا علاقوں میں بھی کانگریس کے امکانات کو روشن قرار دیا اور مختلف خانگی اداروں کی جانب سے کئے گئے سروے رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تلگودیشم، وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور بی جے پی میں مخالف کانگریس ووٹ تقسیم ہوجائیں گے جس کا فائدہ کانگریس پارٹی کو ہوگا۔ محمد علی شبیر نے کرن کمار ریڈی کی جانب سے پارٹی کے قیام کے امکانات کے پس منظر میں کئے گئے ایک سروے کی رپورٹ ہائی کمان کے حوالے کی۔ محمد علی شبیر نے ڈگ وجئے سنگھ، غلام نبی آزاد اور گروپ آف منسٹرس میں شامل وزراء کو رپورٹ پیش کی ہے۔ ہائی کمان کے قائدین سے ملاقات کے دوران محمد علی شبیر نے تلنگانہ ریاست میں اقلیتوں کے ساتھ مکمل انصاف کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ریاستوں میں اقلیتوں کو جاری تحفظات اور ان کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے چلائی جارہی اسکیمات کو برقرار رکھا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سیاسی اور حکومت کی سطح پر اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دی جائے۔ ہائی کمان نے محمد علی شبیر کو یقین دلایا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں میں اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دی جائے گی اور کانگریس کے وفادار قائدین کو اہم عہدوں پر فائز کیا جائے گا۔