سیما آندھرا کانگریس قائدین ، کرن اور بوتسہ کیمپوں میں منقسم

حیدرآباد ۔ 17 فبروری ۔ (سیاست نیوز ) سیما آندھرا کی نمائندگی کرنے والے کانگریس قائدین دو گروپس میں تقسیم ہوگئے ہیں ۔ صدر پردیش کانگریس کمیٹی نے آج شام اپنی قیامگاہ پر کانگریس کے حامی سیما آندھرا کے کانگریس قائدین کا ایمرجنسی اجلاس طلب کیا ۔ چیف منسٹر کے استعفیٰ دینے یا نئی پارٹی تشکیل دینے سے کوئی فائدہ نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے تمام قائدین کو کانگریس پارٹی میں برقرار رہنے کا مشورہ دیا۔ جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر کل دہلی پہونچ کر وزیراعظم کے بشمول تمام قومی اور علاقائی جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کو متحد رکھنے کی آخری کوشش کرنے کا اعلان کیا۔ سیما آندھرا کی نمائندگی کرنے والے کانگریس قائدین دو گروپس میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ ایک گروپ کی چیف منسٹر کرن کمار ریڈی قیادت کررہے ہیں دوسرے گروپ کی صدر پردیش کاگنریس کمیٹی مسٹر پی ستیہ نارائنا قیادت کررہے ہیں ۔ کل کیمپ آفس پر چیف منسٹر کرن کمار ریڈی نے سیما آندھرا کے وزراء ، ارکان اسمبلی ، ارکان قانون ساز کونسل اور ارکان پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں تقریباً 7 وزراء نے شرکت کی تھی ۔ آج صدرپردیش کانگریس کمیٹی نے اپنی قیامگاہ پر ایک اجلاس طلب کیا تھا

جس میں چیف منسٹر کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے والے تقریباً 7 وزراء اور دوسرے قائدین نے شرکت کی ۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صدرپردیش کانگریس کمیٹی نے کہاکہ آخری کوشش کے طورپر کل پھر ایک بار دہلی پہونچ کر وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے علاوہ تمام قومی اور علاقائی جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کو متحد رکھنے کی اپیل کی جائیگی ۔ انھوں نے صدر تلگودیشم پارٹی چندرابابو نائیڈو اور صدر وائی ایس آر کانگریس پارٹی جگن موہن ریڈی کے بشمول سی پی ایم کے اسٹیٹ سکریٹری مسٹر پی وی راگھولو سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی جماعتی وابستگی سے بالاتر ہوکر ریاست کو متحد رکھنے کیلئے اپنی اپنی مساعی کو جاری رکھیں۔ چیف منسٹر کو بھی مدعو کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انھیں بھی مکتوب روانہ کرنے کے علاوہ ٹیلیفون پر بات چیت کی جائیگی ۔ کل چیف منسٹر کی جانب سے طلب کردہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر پی ستیہ نارائنا نے کہاکہ انھیں شرکت کرنے کی دعوت نہیں دی گئی تھی ۔ کل چیف منسٹر کی جانب سے استعفیٰ دینے اور نئی پارٹی تشکیل دینے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے لاعلم ہیں ۔ اب استعفیٰ دینا اور نئی پارٹی تشکیل دینا بے فیض ہے اس سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے ۔

جب سی ڈبلیو سی کی جانب سے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا وہ اور دوسرے سینیر وزراء نے چیف منسٹر کو اجتماعی استعفیٰ پیش کردینے کا مشورہ دیا تھا لیکن تب چیف منسٹر نے اس کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی ۔ استعفیٰ دیا جاتا تو شاید آج یہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی ، وہ ماصی میں گھوڑے دوڑانے کے قائل نہیں ہیں ، ریاست کو متحد رکھنے کیلئے کیاجاسکتا ہے اس پر وہ اپنی ساری توجہ مرکوز کرچکے ہیں اور ساتھ ہی سیما آندھرا کے کانگریس قائدین سے اپیل کرتے ہیں کہ کوئی پارٹی نہ چھوڑیں بلکہ کانگریس میں رہ کر سیما آندھرا کے مفادات کا تحفظ کرنے اور ریاست کو متحد رکھنے کیلئے جدوجہد کریں ۔ سیما آندھرا کی نمائندگی کرنے والے وزراء اور کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ ریاست کو متحد رکھنے کی جدوجہد کررہے ہیں ہم ان کی مکمل تائید کریں گے ۔ انھوں نے کہاکہ وہ شہر میں دستیاب وزراء کو اجلاس میں مدعو کرچکے ہیں ، چند وزراء دہلی میں ہے اور چند وزراء شخصی وجوہات کے باعث شرکت کرنے سے قاصر رہے۔